ہم انگریز کیوں بنیں …… ڈاکٹر ہارون اشفاق چودھری

انگریز بن کر کون اپنی اقدار اور معیار کا ستیاناس کرنا چاہے گا؟ ہماری اقدار کی ایک قسم تو ہماری کتابوں، تقریروں، بیانوں میں ہے لیکن جن اقدار کوہم پریکٹس کرتے ہیں ان کو چھوڑنے کا تو ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ انہی پر تو ہمارا معاشرہ استوار ہے۔ بچوں کو انگریز بناکر ہم نے انہیں بھوکا مارنا ہے؟ ذرا اندازہ لگائیں انگریز بنتے ہی یہ کیسے بن جائیں گے؟ انگریز جھوٹ نہیں بولتا، کم نہیں تولتا، ملاوٹ نہیں کرتا، جعلی دوائیں نہیں بناتا، ان کی کچہریوں میں ٹائوٹ اور پیشہ ور گواہ بھی نہیں ہوتے، ان کی گلیوں، محلوں، بازاروں، چوراہوں میں گندگی کے ڈھیر بھی نہیں ہوتے اور وہ خبیث قطار بنائے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے جبکہ ہمارا منشور ہے “الٹنا، پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا” قطار کی ایسی تیسی۔ گورا صدیوں سے ایجاد، اختراع، تخلیق اور تعمیر کی علامت ہے اور ہم ریل کے انجن اور پٹڑیاں کھاکر بھی ڈکار نہیں لیتے۔ وہ عجیب وغریب محیرالعقول نت نئی ایجادات میں مصروف ہیں جبکہ ہم نے ایسی “ٹیکنالوجی ” ایجاد کی ہے جس سے بکرا حلال کرنے کے بعد “آبی قوت” کے ذریعہ اس کا وزن بڑھایا جاسکتا ہے، وہ جعلی انسانی اعضا تیار کررہے ہیں، ہمارے قائدین نے جعلی ڈگریوں کا کلچر بام عروج تک پہنچا دیا۔ واقعی ہمیں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ بچوں کو صرف انگریزی سکھائیں، انگریز نہ بنائیں کہ انگریزوں کے ہاں گھوسٹ سکول نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے سکولوں میں مویشی باندھنے اور شراب جوئے کے اڈے چلانے کا رواج ہے اور ان کی بیوقوفی بلکہ بے حیائی دیکھو کہ وہ اپنے تھانے بھی نیلام نہیں کرتے اور کیسی خجالت وندامت کی بات ہے، انگریزوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ اُن کے وکیلوں نے کبھی اپنے ججوں کی جوتوں، مکوں، لاتوں تھپڑوں سے تواضع نہیں کی، نہ ذات برادری نہ فرقہ واریت اور نہ کوئی کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرکے اپنا مکروہ وجود کسی اور پر مسلط کرنے کے مرض میں مبتلا پایا جاتا ہے… کیسا مریض معاشرہ ہے؟ نہ کالی نہ کاروباری نہ غیرت کے نام پر قتل عام نہ کوئی آصف زرداری نہ کوئی میاں نواز شریف … ایسے انگلینڈ پر لعنت بھیجنی ہے؟ نہ دہشت گردی نہ بم دھماکے …خودکش جیکٹوں کی بجائے سادہ سے کپڑے پہنے پھرتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کی نعمت سے محروم، نہ قدم قدم پر جلسے جلوس، دھرنے، بھوک ہڑتالیں۔ نہ جلتے ٹائروں کا نور اور خوشبو نہ لیپ ٹاپوں کی لوٹ مار نہ دانش سکولوں کا کوئی ڈرامہ نہ ووٹ کے لیے نوٹ، نہ کوئی برباد سٹیل مل، نہ کوئی ریکوڈک نیلام گھر، نہ ٹکے ٹوکری ایئر لائن اور نہ ہی ہڑتالی ڈاکٹر …نہ ایک دوسرے کے کپڑے اتارتے سچے لیڈر اور نہ ان کے لیڈروں کی بیرون ملک جائیدادوں کے انبار…کبھی سنا ان کی کسی مارگریٹ تھیچر، ٹونی بلیئر، گارڈن برائون، جان میجر وغیرہ وغیرہ وغیرہ میں سے کسی نے کراچی، لاہور، اسلام آباد جائیداد خریدی ہو؟ یا اپنے بچوں میں سے کسی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اسلامیہ کالج لاہور جیسی عظیم درگاہ میں بھیجا ہو؟ یہ ہماری عظمت ہے کہ ہم غیرت کو بالائے طاق رکھ کر بین الاقوامی تعلقات میں بڑھاوے کے لیے بے نظیروں اور بلاولوں کو وہاں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں ورنہ ہمارے ایم سی ہائی سکول کب کسی سے کم ہیں؟ اور تو اور ہم اپنا ملک لوٹ کر ان کے ملکوں میں انویسٹ کرتے ہیں اور اپنے حسین نوازوں کو وہاں کاروبار کراتے ہیں۔ کہاں وہ؟ کہاں ہم؟ کہاں ان کی ذلتیں؟ کہاں ہماری عظمتیں؟ کبھی دیکھا آپ نے کہ انگریز حکمرانوں کی منحوس شکلوں سے ان کے شہر بھرے ہوئے ہوں؟ یہاں جدھر دیکھو چوروں کے ٹولے کی گروپ فوٹو…دیواروں پر، پلوں پر، ہورڈنگز پر، بسوں پر، رکشائوں کے پیچھے چوروں کا پورا پورا خاندان پاکستان اور اہل پاکستان کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔ وہاں افراد نہیں “سیاسی پارٹیاں ” ہوتی ہیں جبکہ یہاں “سیاسی فیکٹریاں ” باپ، بیٹا بیٹی، داماد، سسر، سالا، بھائی، بہنوئی، تایا، چاچاتو بھائی!واقعی ہمیں بچوں کو صرف انگریزی پڑھانی ہے انگریز بننے سے ہرقیمت پر بچانا ہوگا ورنہ اس مملکت خداداد کی تو ساری “رونقیں ” ہی مٹ جائیں گی.

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial