پانچ ہزار لاشوں سے بنا گرجا گھر اور اس میں لٹکے ماں بیٹا ….. ضیغم قدیر

”کہاوت ہے کہ موت کادن پیدائش کے دن سے بہتر ہوتا ہے۔ “

جب کبھی ہم کسی بھی عبادت گاہ کے اندرونی منظر کا سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہی آتا ہے کہ ہمیں کسی بھی معاشرے کے ثقافتی رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ جیسا کہ مسلمان فنِ تعمیر کا سوچ کر مینار اور عیسائی فنِ تعمیر کی بات پر صلیب ذہن میں آتی ہے۔ مگر پرتگال میں موجود یہ گرجا کھوپڑیوں سے بنا ہے۔ ایسا کیوں؟ اس کے پیچھے ایک راز چھُپا ہے۔

کیپیلا دوس اوسس یا پھر ہڈیوں کا گرجا جو کہ ایورا نامی پرتگالی قصبے میں واقع ہے اس کے مشہور ہونے کی وجہ اس کا فن تعمیر ہے جو کہ ہڈیاں ہی ہڈیاں ہیں۔ اور یہ اس قصبے کی سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی جگہ ہے۔

تاریخ میں تھوڑا پیچھے چلے جاتے ہیں۔ یہ سولہویں صدی ہے۔ صلیبی جنگیں عروج پہ ہیں اور یہ چرچ پوپ فرانسس کے رائل چرچ کے تحت آرہا ہے۔ اس چیپیل کی بنیاد فرانسیسکن راہبوں کے مذہبی آرڈر کے تحت رکھی گئی۔ اور اس گرجا کی اندرونی دیواروں کو کافی منفرد چیز سے سجایا گیا ہے۔ یہ چیز کچھ اور نہیں انسانی ہڈیاں، کھوپڑیا ں اور ڈھانچے ہیں۔

سولہویں صدی میں ایورا نامی قصبہ ایک قبرستان ہوا کرتا تھا۔ وہ قبرستان جہاں پہ بیالیس سے تینتالیس قبرستان موجود تھی۔ اتنے زیادہ قبرستانوں کی موجودگی بہت بڑے قطعہ اراضی کو ناکارہ بنا رہی تھی۔ اور یہ ایک لمحہ فکریہ تھا۔ وہ زمین جس کا استعمال منوں اَناج اور گھروں کے لئے جگہ دے سکتا تھا۔ وہاں پہ قبرستان ہی قبرستان تھے۔

کچھ دماغوں میں یہ بات آئی کہ کیوں نا اس قبرستانوں کے اکٹھ کو تباہ کرکے یہاں کچھ منفرد، قابلِ استعمال بنایا جائے تو فرانسیسکن راہبوں، جو کہ اس وقت اس جگہ پہ رہ رہے تھے، نے سوچا کہ کیوں نا یہاں موجود تمام مرُدوں کی ہڈیوں کو اکٹھا کرکے کہیں اور منتقل کر دیا جائے تاکہ ان کی روحیں ازلی عذاب سے بچ سکیں۔

کچھ کلچرز میں کسی بھی لاش کو دوبارہ دفنایا جانا دراصل ان کے لئے ابدی سزا سے نجات سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں موجود فرانسیسکن راہبوں کے دماغ میں کچھ نیا سوجھ رہا تھا۔ انہوں نے کچھ منفرد سوچ سوچی اور کہا کہ کیوں نا ایک ایسا گرجا بنایا جائے جہاں ان تمام ہڈیوں کو ایک نشانِ عبرت بنایا جائے۔

ان دنوں، سولہویں صدی کے دوران، کاؤنٹر ریفارمیشن نامی تحریک عروج پہ تھی۔ یہ تحریک رومی کلیسا کی طرف سے شروع کی گئی تھی جس کا اولین مقصد یہ تھا کہ پروٹسٹنٹ کلیسا کی طرف سے جو اصلاحات کرکے مذہب کی شکل بدلی گئی تھی ان کو ختم کرکے ایسی اصلاحات کی جائیں جو کہ ان کا متبادل بن کے تمام مذہبی سرگرمیوں کو واپس معمول پہ لے آئیں۔ فرانسیسکن راہبوں نے ایسے نادر موقعے کو ہاتھ سے نا جانے دیا اور ان اصلاحات کی آڑ میں ان مام قبرستانوں کو کھودنا شروع کر دیا تا کہ ان میں موجود ڈھانچوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے۔ لوگ اس گرجا کو وزٹ کرنے کے بعد انسانی زندگی کے فانی ہونے اور موت کی اٹل حقیقت کو جان سکیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ شہر کی گرتی معاشرتی اقدار کو بھی بدل سکیں گے۔

کیپیلا دوس اوسس کا بنیادی خیال سین برنارڈینو ایلی اوسا نامی چرچ، جوکہ میلان اٹلی میں واقع ہے سے لیا گیا۔ یہ چرچ اپنے گورستان کی وجہ سے مشہور تھا۔ سو کیپیلا دوس اوسس کی تعمیر کے لیے پانچ ہزار لاشوں کو نکالا گیا اور انہیں فرانسسکنز نے گرجا کی دیواروں کو سجانے کے لئے استعمال کیا۔

کچھ روایات کے مطابق یہ لاشیں مسلمانوں کی ہیں، کچھ روایات کہتی ہیں کہ یہ ان سپاہیوں کی لاشیں تھی جن کی موت جنگوں کے درمیان ہوئی تھی، جبکہ وہیں کچھ کی رائے کے مطابق یہ لاشیں کسی نامعلوم متعدی بیماری سے مرنے والے لوگوں کی تھی۔ لیکن حقیقت میں یہ لاشیں اُن عام لوگوں کی تھی جن کو ایورا کے پُرانے قبرستانوں میں دفنایا گیا تھا۔

اسکے علاوہ اس گرجا کی خاص بات اس میں لٹکی دو لاشیں ہیں جن میں سے ایک نوجوان انسان اور دوسری بچے کی ہے۔ دونوں دیوار سے رسیوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں۔ کچھ روایات کے مطابق یہ لاشیں ایک ماں اور بچے کی ہیں جن کی کہانی کچھ یوں ہے ؛

ایک ماں اور اس کا بچہ، جو کہ سیب کے سے لال گال رکھتا تھا۔ ان کو خوشی میں کھیلتا کودتا دیکھ کر ایک سخت آدمی جل بھن گیا اور اس نے ان دونوں کی خوشیاں برباد کرنے کی ٹھان لی اور ان پر جادو کر دیا۔ اور ان کی موت واقع ہوگئی۔ موت کے بعد ان کی لاشوں کو قبرستان میں دفنانے نا دیا گیا۔ یونہی ویرانے میں بے یارومددگار پڑی لاشوں نے گرجا کے اندر پناہ لے لی۔ اور وہاں آ لٹکیں۔

اسی طرح ایک اور کہانی کے مطابق یہ لاشیں باپ بیٹے کی ہیں۔ باپ جو کہ بدکار تھا اس پر ایک آدمی کی نہتی بیوی نے جادو کر دیا تھا۔ سولہویں صدی کا یورپ جادو کی ایسی لاکھوں سچی اور جھوٹی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔

اس گرجا کی ایک اور خاص بات اس کے دروازے پہ لکھا مقولہ ہے کہ

”ہماری ہڈیاں ہیں یہاں، تمہاری ہڈیوں کا انتظار کر رہی۔ “

یہ دنیا کا واحد گرجا نہیں جو ہڈیوں سے مزین ہے اس کے علاوہ اسی قصبے کے ساؤتھ میں واقع ایک گرجا ہے جس کو راہبوں کی کھوپڑیوں سے بنایا گیا ہے۔

کیپیلا دوس اوسس میں ایک نظم لکھی ہوئی ہے۔ جس کے چند اشعار پیشِ خدمیت ہیں ؛

اوہ سفر کی جلدی میں مارے مسافر کہاں جا رہے ہو

رک جاؤ آگے نا بڑھو!

تمہارا کوئی مقصد نہیں

سوائے اس کے کہ تم اپنی نگاہ پہ دھیان دو

یاد کرو کہ کتنے ہی چھوڑ چکے یہ جہاں

سوچو پھر اپنا بھی یہی انجام

سوچنے کا یہی بہتر بہانا ہے

کہ ہم نے یہ جہان چھوڑ جانا ہے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial