ننکانہ گورودوارہ جنم استھان کے باہر مجمع اکٹھا کر کے نفرت اور اشتعال انگیز تقریرکرنے والے مرکزی ملزم عمران کو پولیس نے گرفتار کرلیا

ننکانہ صاحب(کاروانِ عدل نیوز ) گورودوارہ جنم استھان کے باہر مجمع اکٹھا کر کے نفرت اور اشتعال انگیز تقریرکرنے والے مرکزی ملزم عمران کو پولیس نے گرفتار کرلیا تفصیلات کے مطابق ملزم عمران نے 4 روز قبل گوردوارہ جنم استھان کے مین گیٹ کے سامنے احتجاج کے دوران اشتعال انگیز تقریر کی تھی جسے بھارتی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھااس واقعہ پر وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیا اور واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف فوری کاروائی کرنے کا حکم دیا وزیر اعظم عمران خانکی ہدائت پر گذشتہ روزوفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں سکھ رہنماوں کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور سکھ کیمونٹی کویقین دلایا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور بہت جلد انہیں گرفتار بھی کر لیا جائے گا اور ذمہ دار ملزموں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے گی۔اس کے بعد پولیس حرکت میں آِئی اور رات گئے پولیس نے مرکزی ملزم عمران کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے پولیس تھانہ سٹی ننکانہ صاحب نے توہین مذہب اور دہشت گردی سمیت 290/291/341/506/148/149 295A/ کے تحت مقدمہ نمبر6/2020 درج کیا ہے مبینہ طور پر4 روز قبل مرکزی ملزم عمران کے چچا زمان کی چائے کی دوکان پر ملزم عمران کے دیگر رشتہ داروں اور چائے پینے والے گاہکوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اور جب 15 پر کال ہوئی تو پولیس نے موقعہ پر پہنچ کر دونوں پارٹیوں کے 6 افراد کو گرفتار کرلیا تھا جس پر ملزم عمران نے اس کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی اور گوردوارہ جنم استھان کے سامنے لوگوں کو اکٹھا کر کے دھرنا دیا تھا اور احتجاج کے دوران سکھوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کی تھی بعد ازاں ملزم عمران نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنی اشتعال اور نفرت انگیز تقریر پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معافی بھی مانگی تھی جبکہ دوسری جانب ملزم عمران نے الزام عائد کیا تھا کی پولیس نے میرے گھر چھاپہ مارا اور خواتین سمیت گھر میں موجود افراد پر تشدد کیا اور گرفتاریاں کیں اور پولیس ہمیں ہراساں کر رہی ہے کہ میرا بھائی احسان سکھ لڑکی کو طلاق دے جس نے 4 ماہ قبل جگجیت کور جو اب مسلمان ہے اور اس کا اسلامی نام عائشہ ہے اور وہ دارالامان میں ہے اسے طلاق دو جبکہ لڑکی بضد ہے کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial