ننکانہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا جعلی مشروب ساز کمپنی پر چھاپہ جام شیریں کی ہزاروں جعلی بوتلیں اور خام مال برآمد

بعد ازاں محکمہ نے بھاری مفاد لیکر مالکان سے ساز باز ہوکر نہ لیبارٹری کو سیمپلنگ کی اور نہ ہی
ہزاروں لیٹر تیار شدہ شربت ، خام مال اور مشینری قبضے میں لی اور نہ ہی فیکٹری کو سیل کیا
ننکانہ صاحب سے چوہدری افضل حق اورشاہ زیب رضا گجرکی رپورٹ
پنجاب فوڈ اتھارٹی کاننکانہ میں جعلی مشروب بنانے والی فیکٹری پر چھا پہ ، جام شیریں شربت کی ہزاروں بوتلیں اور خام مال برآمد، پنجاب فوڈ اتھارٹی کے عملہ کی ملی بھگت سے با اثر مالکان کے خلاف برائے نام کاروائی، پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جعلی شربت فیکٹری کے مالکان سے ساز باز ہوکر نہ ہی کوئی مواد لیبارٹری کو سیمپلنگ کے لئے بھیجا اور نہ ہی ہزاروں لیٹر تیار شدہ شربت ، خام مال اور جعلی مشروف تیار کرنے والے آلات قبضہ میں لیے اور نہ ہی فیکٹری کو سیل کیا فیکٹری مالکا ن سمیت 9افراد کے خلاف معمولی دفعات کے تحت مقدمہ درج، ایک ملزم گرفتار جو 24گھنٹوں میں رہا تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی ننکانہ صاحب نے قرشی کمپنی کی اطلاع پر پولیس کے ہمراہ واربرٹن روڈ پر واقع الفارس فوڈ پروسیسنگ کمپنی ننکانہ صاحب پر چھاپہ مارا اور قر شی کمپنی کے معروف برانڈ کے شربت جام شیریں کی جعلی فیکٹری پکڑ لی مبینہ طور پر جعلی جام شیریں شربت ننکانہ صاحب ، شیخوپورہ اور فیصل آباد سمیت مختلف اضلاع کے علاقوں کو سپلائی کیا جاتا تھا پولیس تھانہ صدر ننکانہ صاحب نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی آفیسر خرم شہزاد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا پولیس رپورٹ کے مطابق فیکٹری سے جام شیریں شربت کی ہزاروں بوتلوں کے کارٹن اور خام مال برآمد ہوا اور فیکٹری کا ایک ملازم شاہد پکڑا گیا جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے فیکٹری کے عملہ اور پولیس کی موجودگی میں فیکٹری کے دوملازم انعام اللہ اور ملازم حمید موقع سے فرار ہو گئے فیکٹری کے مالک عمر عارف ، انعام اللہ ،علی اور تین نامعلوم بھی اس سنگین جرم میں ملوث ہیں ۔ دلچسپ اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جعلی شربت فیکٹری کے مالکان سے ساز باز ہوکر نہ ہی کوئی مواد لیبارٹری کو سیمپلنگ کے لئے بھیجا اور نہ ہی ہزاروں لیٹر تیار شدہ شربت ، خام مال اور جعلی مشروف تیار کرنے والے آلات قبضہ میں لیے اور نہ ہی فیکٹری کو سیل کیا جبکہ صاف پانی تیار اور فروخت کرنے کی آڑ میں جعلی شربت بنانے پر کوئی ٹھوس کاروائی عمل میں نہیںلائی گئی جبکہ پنجاب پیور فوڈ ترمیمی ایکٹ2016 کے مطابق 500 لیٹر سے زیادہ جعلی اور غیر میعاری شربت تیار کرنے اور اسکی خرید وفروخت کرنے والوں کو 5 سال قیداوربھاری جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اور یہ جرم نا قابل ضمانت ہے ۔لیکن فوڈ اتھارٹی کے عملہ نے بااثرمالکان کی ملی بھگت سے قابل ضمانت اور معمولی دفعات لگا کر ملزمان کو فائدہ پہنچایا جس سے گرفتار ملزم شاہد 24 گھنٹے میں رہا ہوگیا۔جوقانون کی خامیوں اور فوڈ اتھارٹی کی کاروائی پر سوالیہ نشان ہے ؟۔ یہ امر قابل غور ہے کہ نان چنے فروخت کرنے ، ریڑی والوں اور چھوٹے چھوٹے دوکانداروں کے خلا ف سرگرم پنجاب فوڈ اتھارٹی کے عملہ کی نظر سے فوڈ پروسیسنگ کمپنی میں یہ مکروہ دھندا اتنے عرصہ سے کیوں اوجھل رہا۔ مقدمہ مدعی فوڈ سیفٹی آفیسر خرم شہزاد نے اپنا مﺅقف دینے سے انکار کیا ڈی ایس پی سرکل ننکانہ طارق محمودڈوگر نے کہا ہے کہ جعلی شربت ، خام مال اور آلات قبضہ میں لینا اور فیکٹری سیل کرنا پنجاب فوڈ کی ذمہ داری ہے تاہم ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائےگی جبکہ اس حوالے سے قرشی کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہماری کمپنی کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ہم اپنے لیگل ڈیپارٹمنٹ سے مشاورت کے بعد کاروائی عمل میں لائیں گے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial