” مثبت تربیت کا اثر“ ………… ازقلم:محمد عمیرخالد

’’تربیت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’’کسی چیز کو اس کے ابتدائی مراحل سے انتہا تک پہنچانا اور ان تمام مراحل میں اس کی تمام ضرورتیں پوری کرنا‘‘ اب بچے کی پیدائش سے لے کر موت تک زندگی گزارنے میں جو جو مراحل روز مرہ پیش آتے ہیں ان تمام مراحل میں بچے کی پوری رہنمائی اور نگرانی کرنے کا نام تربیت ہے۔تربیت سے ہی انسان کی شناخت ہوتی ہے، کسی بھی شخص و شخصیت کی ترقی و تنزلی میں تربیت کا مثبت یا منفی کردار ضرور ہوا کرتا ہے۔

حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ ماں کی گود بچے کیلئے ابتدائی مکتب ہے اگر اس مکتب میں اس کی اچھی تربیت ہوئی تو پھر آخر تک اس کی اسی طرز پر تعلیم و تربیت ہوتی رہتی ہے اور اگر خدانخواستہ بچپن ہی سے بری صحبت اور غلط تربیت ہوئی تو بہت مشکل ہے کہ پھر آئندہ اس کی اصلاح ہو سکے۔ فرماتے ہیں بچہ پیدا ہوتے ساتھ ہی تربیت کے قابل ہوتا ہے عموماً سمجھا جاتا ہے کہ جب بچہ چار یا پانچ سال کا ہو گا اس وقت اس کی تربیت کا وقت ہو گا مگر یہ صحیح نہیں جبکہ اس سے پہلے بھی اس کے سامنے کوئی برا کلمہ نہیں کہنا چاہئے اور نہ ہی کوئی برا انداز ان کے سامنے اختیار کرنا چاہئے۔
بچوں کو جس انداز میں ڈھالا اور سکھایا جاۓ وہ چل پڑتے ہیں، ہمارے دور کا سب بڑا مسٸلہ تربیت ہے جس طرح کی تربیت ہوگی، پھر ویسے ہی وہ جوانی کے زینے چڑھتا ہے، ہر کامیاب انسان کے پیچھے اس کی مثبت و اعلیٰ تربیت ہوتی ہے۔ تربیت کا اثر انسان کی گفتگو ،قول وفعل سے ظاہر ہوتا ہے ۔

جریر بن عطیہ نامی ایک شاعر تھا جو اپنے والدین کا بڑا نافرمان تھا، اس کی شادی ہوٸ بیٹا ہوا ا نے اپنے بیٹے کا نام بلال رکھا وہ اپنے والد جریر کا نافرمان تھا، ایک دن دونوں میں کسی بات پر تکرار ہوا تو بات بڑھ گئی بلال نے اپنے باپ جریر سے کہا اگر ہم دونوں میں جو حق پر ہوا وہ میری ماں سے بدکاری کرے گا اس کی ماں یعنی جریر کی بیوی غصہ میں باہر نکلی اور کہا او بدبخت یہ کیا کہہ رہا ہے جریر نے کہا: اس کو کچھ نہ کہو یہ میرا ہی قصور ہے اس طرح کے الفاظ میں نے اپنے باپ سے کہے آج وہی مجھے کہا جاچکا۔
آج والدین کا رونا ہے کہ اولاد نافرمان ہے، معاشرہ بگڑ رہا ہے، جوان ہوتے ہی عادات خراب ہوجاتی ہیں، غلط سوسائیٹی میں جانے لگتا ہے، غلط کاموں میں الجھا رہتا ہے۔ آۓ روز کے مشاغل ِ بد اور نت نۓ کی رینگینیوں میں مگن ہوجاتا ہے والدین کی نافرمانی کرنا کار ِ خیر سمجھتا ہے، نجی مجلس سے لیکر کالج یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ بیٹھک تک میں بازاری زبان استعمال کرتا ہے۔اور تو اور دینی معاملات کو پس ِ پشت ڈال کر ایک نٸ دنیا کو اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے یہ فقط والدین کی غلط تربیت کا اثر ہوتا ہے جو انہیں دکھائی بھی نہیں دیتا،یہ وہی ماں باپ ہیں جو اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہیں انکے ناز ونخرے اٹھاتے ہیں ۔ تو جب یہی اولاد جوانی کے زینے چڑھ رہی ہوتی ہے تو تب ماں باپ اگر ناز اٹھانے کے ساتھ ساتھ مناسب طور پر بھی اگر تھوڑی سی سرزنش کردیں تو اولاد سے برداشت نہیں ہوتا، در حقیقت یہ غلط تربیت کی بیج ہوتا ہے جو اب بڑا ہوچکا ہوتا ہے۔

حالت یہ ہوگٸ ہے والدین سوچنے لگے ہیں کہ آج کل بچے کو کسی چیز سے منع نہ کرو خاص کر کے جن ایام میں بچوں پر نظر رکھنی چاہیئے ان ایام میں والدین ہی بچوں سے ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں کچھ کہہ نہ دے ۔ حالانکہ اگر تربیت اچھی ہو تو والدین جو مرضی کہ لیتے بچہ آگے سے “اف” تک نہیں کرتا۔
اسی طرح پھر جب وہ کسی کالج، یونیورسٹی سے پڑھ کر فارغ ہوتا ہے تو ایک پورے معاشرے کی لگام اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اگر اسکی اچھی تربیت ہوئی ہوگی تو لازماً وہ ایک اچھا معاشرہ تخلیق کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرے گا اور اپنی تربیت پر بھی فخر کرے گا ۔
اگر آپﷺ کی زندگی کو پڑھا جاۓ تو جس انداز میں میرے نبی اکرمﷺ نے تربیت فرمائی اور وہ انداز ہمیں سکھاۓ ہیں ان پر ہی عمل پیرا ہویا جاۓ تو وثوق سے کہہ سکتے ہیں یہی قوم اپنے وطن کو ترقی کے سب طریق طے کروا سکتی ہے دراصل ہم اس چیز کو نظر انداز کرچکے ہیں کہ اسوہ رسول ﷺ میں ہماری کامیابی بھی ہے اور ہمارے اولاد کی تربیت ومستقبل بھی۔اگر تربیت فرامین رسولﷺ کے مطابق ہوگی تو یقیناً پھر وہ اسلام کا نام روشن کریں گے ملک و ملت کا نام روشن کریں گے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial