فاتحین ہندآرائیں قوم کی مستند تاریخ……از ڈاکٹر ہارون اشفاق چودھری

انتہائی نفیس ،باوقار ،سادہ لوح، اصول و انصاف سادگی و شرافت، جرات اور دانشمند ی سے لبریز آرائیں قبیلہ ایک شاندار اور فاتحانہ تاریخ رکھتا ہے اس عربی النسل قبیلے کی جڑیں فلسطینی عرب علاقے سے جا ملتی ہیں جو نسلآ مسلمان تھے.محمد بن قاسم کے لشکر کے ساتھ آیا یہ فاتحین اسلام کا قبیلہ راجہ داہر اسکی فوجوں کو روند کر علاقوں میں اسلام کا جھنڈا گاڑتا ہوا برصغیر پاک و ہند میں آباد ہو گیا ہند کو فتح کرنے والے لشکر اسلام کے اس قبیلہ کے مجاہدین کے پاس سب سے حساس اور ذمہ دار قیادت تھی اسلامی فوج کا جھنڈا بھی اسی قبیلے کے پاس تھا جسے اسکے سپاہیوں نے کبھی سر نگوں نہیں ہونے دیااور فتح ہند میں اسلامی لشکر کی قیادت کرتے اس قبیلے نے فتح ہند کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے……!
آپ میں سے بھی بہت سے آرائیں قوم سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ آئیے آپ دوستوں کو ان کی تاریخ کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں جو یقینا آپ کے لیے دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا باعث ہوگی۔ذہن میں رہے ذات صرف ہماری پہچان کے لیے ہوتی ہے ۔ اس پر فخر کرنا مناسب نہیں۔ہم پہلے مسلمان ہیں پھر پنجابی پٹھان آرائیں؛ راجپوت؛ جاٹ؛ وغیرہ ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے بہترین وہ ہے جو متقی ہے۔اب اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔

آرائیں ذات کے آباؤاجداد اریحائی فلسطینی عرب تھے، جو 712ء ميں دریائے اردن کے کنارے آباد شہر اريحا سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغير ميں داخل ہونے والی فوج کی تعداد 12,000 تھی، جس میں سے 6,000 اریحائی تھے۔ محمد بن قاسم تقریباً 4 سال تک سندھ میں رہے۔ اسی دوران گورنر عراق حجاج بن یوسف اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کا یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا۔ خليفہ سلیمان بن عبدالملک نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر سخت مظالم ڈھائے۔ اسی دوران اس نے محمد بن قاسم کو بھی حجاج بن یوسف کا بھتیجا اور داماد ہونے کے جرم میں گرفتار کرکے عرب واپس بلایا، جہاں وہ 7 ماہ قید میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔

خليفہ کی ان ظالمانہ کارروائيوں کی وجہ سے اریحائی فوجیوں نے اپنے آبائی وطن واپس نہ جانے اور برصغیر ہی میں ہی قيام کا فيصلہ کرليا۔ خلیفہ کے عتاب سے بچنے کے لیے انہوں نے فوج کی ملازمت چھوڑ دی اور کھیتی باڑی کواپنا ذریعہ معاش بنا لیا۔ کچھ عشروں بعد وہ آہستہ آہستہ وسطی اور مشرقی پنجاب کی طرف چلے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اگلی نسلیں پورے برصغیر میں پھیل گئیں۔

اریحائی یا الراعی سے

محمد بن قاسم (علیہ رحمہ)کے لشکر سے آرائیں لفظ کی تشریح راجہ داہر کی قید میں ایک مسلمان لڑکی کی آواز پر لبیک کہنے والا بارہ ہزار عوام کا اسلامی لشکر چار حصوں پر مشتمل تھا پہلا حصہ کا نام مقدمتہ الجیش تھا جو تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل تھا اور لشکر سے تین چار میل آگے سے راستہ کی راہنمائی کر رہا تھا۔باقی دائیں طرف کا لشکر (میمنہ) اور بائیں طرف والا (میسرہ) اور درمیان والے لشکر کا نام( قلب )تھا ۔ ہر اسلامی لشکر کے پاس ایک جھنڈا ہوتا تھا جس کو فوج ہر صورت میں بلند رکھتی ہے۔اور جنگ کے اختتام پر یہ مفتوحہ زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے۔اس جھنڈے کا ذکر نبی اکرم محمد ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) نے جو غزوات خود لڑے ان میں بھی ہے اور صحابہ اکرام (ر ضوان اللہ تعالی علیہ اجمعین )نے ان کو گرنے سے بچانے کے لیے شہادتیں نوش فرمائیں ہیں ۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (الرائیہ) ہوتا تھا ۔ فتح کے بعد اس شامی فوج کے سپاہی کو الرائیہ کی نسبت سے الرائیی کہا جانے لگا لفظ الرائیی عربی میں جب بولا جاتا ہے تو سننے میں آرائیں ہوتا ہے کیونکہ عربی میں ا کے بعد ل نہیں بولی جاتی۔الرائیی لفظ کو انگلش میں آرین کہتے ہیں ۔ انگلش تاریخ دانوں نے جو یہ لکھا ہے کہ آرین Arian نے یورپ سے آکر یہاں حملہ کیا اور آباد ہوئے بالکل ٹھیک لکھا ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت شام میں اسلامی خلافت اور دنیا کی سپر پاور تھی اور اس سلطنت کے علاقے یورپ میں بھی تھے اس وقت جب یہ لشکر شام کے جس علاقے سے بھیجا گیا وہ آج بھی شامی علاقہ یورپ کی حدود میں واقعہ ہے.۔خلاصہ کلام یہ کہ آرائیں قوم برصغیر پاک وہند میں عرب سے محمد بن قاسم کی قیادت میں ہی آئی تھی۔جو بعد میں مستقل طور پریہاں رہائش پزیر ہو گئی۔ان میں زیادہ تر لوگ آج بھی کھیتی باڑی کے شعبے سے ہی منسلک ہیں۔ واللہ اعلم

تاریخی پس منظر
آلِ زورعین کی آمد1200سال قبل از مسیح ہے۔ عین یا راعین محبُ العدیہ یعنی قحطانی النسل خاندان بنو حمیرکے ایک الولعزم اور باہمت شہزادے بنی مسرت زیاد الجہور کی اولاد سے ہے۔ یہ خاندان یمن میں بادشاہی کرتا تھا۔ بنو حمیرقحطان سے ساتویں پُشت میں تھا۔ قحطان کے بیٹے کا نام بعصر تھا۔ جو حضرت ابراہیم کا ہمعصر تھا۔ پریم نے جب ایک قلعہ جبلِ روعین پر تعمیر کیا تواس کا نام پریم زورعین پڑ گیا۔ پریم زورعین کو آرائیوں کا مورثِ اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے آرائیوں کو آلِ زورعین بھی کہا جاتا ہے۔ پریم زورعین کی اُولادسے صحابی رسول حضرت نعمان زورعین رضی اللہ تعالی عنہ ہیں جنہوں نے 632؁ء میں حضرت محمدؐ کا دعوت نامہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ آرائیں وہ افراد ہیں جو اسلامی جنگوں میں جھنڈوں کی حفاظت پر معمور ہوتے تھے۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (آرئیہ) ہوتا تھا۔ ارائیں قوم کا آبائی علاقہ دریائے اُردن یا دریائے فرات کے کنارے (آریحا)نامی مقام جو ملک شام کی سرزمین تھی۔ جب یہ لوگ سرزمین ہند پہنچے تو ارائیں اور بعد ازاں آرائیں کہلائے۔ آرائیں قبیلے کے مشہور سردار شیخ سلیم آرائیں ہیں۔ جنہوں نے حضرت سلمان فارسی سے دینی علوم و فیض حاصل کیا۔ لوگ ان کے پاس فیصلے کروانے اتے تھے۔ شیخ سلیم آرائیں کے فرزند شیخ حبیب آرائیں اپنے وقت کے بزورگ تھے۔ جنہوں نے شہدائے کربلا کی تجہیز وتدفین کی تھی۔ شیخ محمد حبیب آرائیں کے فرزندشیخ حلیم آرائیں بھی عظیم ہستی ہیں جنہوں نے محمد بن قاسم بن عقیل کے ساتھ مل کر راجا داہر کی فوج کا مقابلہ کیا۔ 712؁ء خلیفہ ولید بن عبد المالک کی منظوری سے گورنر (دمشق)حجاج بن یوسف نے آپنے نو عمر داماد محمد بن قاسم کو12000 شامی جہادی لشکرجس میں 6000 آرائیں قبیلے کے آفراد شامل تھے راجا دا ہر کی راج دہانی سندھ میں بھیجا۔ راجا داہر اپنی فوج سمیت جنگ میں مارا گیا۔ محمد بن قاسم نے ملتان،بیکانیر،ستلج،دہلی،دریائے سرسوتی تک کا علاقہ فتح کر لیا۔ یوں آرائیں لوگ برصغیر کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ جرنیل سپہ سالار محمد بن قاسم ساڑھے 3سال ہند ،سندھ میں رہے۔ اسی دوران میں خلیفہ ولید اور گورنر حجاج بن یوسف کا یکے بعد دیگر انتقال ہو گیا۔ اورخلیفہ سلمان نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر ظلم کیے۔ فتح ہند کے بعد خلیفہ سلیمان نے محمد بن قاسم کو واپس بلا کر قید کر ادیا۔ محمد بن قاسم 7ماہ قید میں ہی وفات پا گئے۔ خلیفہ سلیمان نے شیخ حلیم آرائیں کو محمد بن قاسم کا ساتھی ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ خلیفہ کی ان ظالمانہ کاروا ئیوں کی وجہ سے آرائیں قوم نے اپنے وطن واپس نہ جانے اور برصغیر قیام کا فیصلہ کر لیا۔ شیخ حلیم الرائی نے آرائیں لوگوں میں زمین تقسیم کی تو آرائیں فوج نے ملازمت چھوڑ کر کھیتی باڑی کرنے لگے۔ آرائیوں کا پیشہ ذراعت اور باغ بانی ہے۔ کھیتی باڑی کا طریقہ بھی تمام اقوام نے انہیں سے سیکھا۔ آرائیں عربی نسل سے ہے مگر عرب سے عجم تک کے سفر میں ان کی زبان اور تہذیب میں نمائیاں فرق آیا ہے۔

ارائیں سے آرائیں
آرائیں اُردو زبان کا لفظ ہے۔ پنجابی ارائیں کہتے ہیں۔ آرائیں کے معنی(کاشتکار)یعنی زمیندار کے ہیں۔ لفظ ارائیں درصل عربی کا لفظ(ارائیں)ہے۔ جو کثرت استعمال اور امتدادِزمانہ سے آرائیں بن گیا ہے۔ عرفِ عام میں آرائیں کہا جاتا ہے۔ ۔ صدیوں تک غیر عرب علاقے میں رہنے اور مقامی آبادیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی وجہ سے عرب ارائیں جہاں اپنی عربی زبان چھوڑ کر عجمی ہو گئے، وہاں انہوں نے برصغیر کی مقامی زبانوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی زبانوں میں بے شمار عربی الفاظ شامل ہوتے چلے گئے۔ مقامی لوگوں کے لیے عربی کے حرف ’ح‘ کا اصل تلفظ کرنا مشکل تھا اور لفظ ارائیں وقت کے ساتھ ساتھ پھر اور پھر بالآخر آرائیں بن گیا۔

We all know that Arab General Muhammad Bin Qasim conquered Sindh in 712 AD. However, the facts surrounding this conquest, and the ill fate that followed for the conqueror is known to few among us.

According to researcher and historian Dr Mubarak Ali, the war between Muhamad Bin Qasim and Raja Dahar was never a war of faith versus infidelity. He further says that it is not correct that Muhammad Bin Qasim’s men included Hindus of scheduled castes fighting for him.

It was after Muhammad Bin Qasim had conquered Sindh and had marched further ahead that locals started joining the Arab forces due to poverty and joblessness. According to Dr Mubarak Ali, the Arabs started ruling under the umbrella of an ancient elite class, thus their behaviour towards the lower and humbler communities never changed.

As such, the taking over of the reigns of Hind and Sindh by the Arabs never changed a thing for the already oppressed and victimised classes of society, which is claimed to be the focus of Islamic governance.

So, who is to decide if Muhammad Bin Qasim was a predator or a preacher?
No glory in death

Chachnama, a Sindhi book published by the Sindhi Adabi Board in 2008, speaks of Muhammad bin Qasim’s demise on page 242 to 243. I will try to summarise it for you.

After Raja Dahar was killed, two of his daughters were made captive, whom Muhammad Bin Qasim sent to the capital Damascus. After a few days, the Caliph of the Muslims called the two young women to his court. The name of the elder daughter of Raja Dahar was Suryadevi, while the younger one’s name was Pirmaldevi.

Caliph Waleed Bin Abdul Malik fell for Suryadevi’s extraordinary beauty. He ordered for her younger sister to be taken away. The Caliph then began to take liberties with Suryadevi, pulling her to himself.

It is written that Suryadevi sprang up and said: “May the king live long: I, a humble slave, am not fit for your Majesty’s bedroom, because Muhammad Bin Qasim kept both of us sisters with him for three days, and then sent us to the caliphate. Perhaps your custom is such, but this kind of disgrace should not be permitted by kings.”

Hearing this, the Caliph’s blood boiled as heat from anger and desire both compounded within him.

Blinded in the thirst of Suryadevi’s nearness and jealousy of Bin Qasim who had robbed him of the purity he would otherwise have had, the Caliph [sic] immediately sent for pen, ink and paper, and with his own hands wrote an order, directing that, “Muhammad (Bin) Qasim should, wherever he may be, put himself in raw leather and come back to the chief seat of the caliphate.”

Muhammad Bin Qasim received the Caliph’s orders in the city of Udhapur. He directed his own men to wrap him in raw leather and lock him in a trunk before taking him to Damascus.

En route to the capital, Muhammad Bin Qasim, conqueror to some, predator to others, breathed his last and his soul departed to meet with the Creator in whose name he claimed to crusade in Sindh.

When the trunk carrying Muhammad Bin Qasim’s corpse wrapped in raw leather reached the Caliph’s court, the Caliph called upon Dahar’s daughters, asking them to bear witness to the spectacle of obedience of his men for the Caliph.

One of Dahar’s daughter’s then spoke in return and said: “The fact is that Muhammad Qasim was like a brother or a son to us; he never touched us, your slaves, and our chastity was safe with him. But in as much as he brought ruin on the king of Hind and Sind, desolated the kingdom of our fathers and grandfathers, and degraded us from princely rank to slavery, we have, with the intention of revenge and of bringing ruin and degradation to him in return, misrepresented the matter and spoken a false thing to your majesty against him.”

The author of the Chachnama then writes that had Muhammad Bin Qasim not lost his senses in the passion of obedience, he could have made the whole journey normally, while wrapping himself in raw leather and locking himself in a trunk only when a part of the journey remained to be covered.

He could have then proven himself innocent in the Caliph’s court and saved himself from such a fate.

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial