دنیا کی سب سے بڑی جیل: حافظ امیرحمزہ سانگلوی

فروری کے شروع ایام گزر رہے ہیں ،ان ایام میں فیصل آباد شہر چوک گھنٹہ گھر کے پاس سے کسی کام کی غرض سے گزر ہوا، تو جاتے ہوئے راستے میں دیکھا کہ ہر طرف تقریبا ہر بازار میں 5فروری(یوم یکجہتی کشمیر) کی مناسبت سے اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑے بڑے بینرز ، فلیکس آویزاں کیے ہوئے ہیں۔
بینرز پر لکھے جملے پڑھ کر میرے ذہن میں اپنے کشمیری بھائیوں کے بارے میں سوچ و بچار شروع ہو گئی اور دل کو وہ منظر اور لکھے ہوئے جملے بہت ہی خوبصورت لگے کہ ہمارے پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں سے بے حد محبت کرتے ہیں ،ان کے دکھ درد کو اپنا ہی محسوس کرتے ہیں اور پھر بھارت سرکار کے غاصبانہ قبضے کے خلاف وقتا فوقتا احتجاج کرتے ہوئے پوری دنیا کے حکمرانوں، امن و امان اور انسانیت کو ان کے حقوق دلوانے کے دعوے داروں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں ،اس وجہ سے انسانیت کے حقوق سلب کرنے اور آزادی کے دشمن بھارت سرکار کا مکروہ چہرہ حکومت پاکستان اور عوام بے نقاب کرتے رہتے ہیں ۔کیونکہ اہل کشمیر کو انہی کی سرزمین میں ان کی زندگیاں اجیرن بنانے والا بھارت ہے، اہل کشمیر کو ان کے گھروں میں بند کیا ہوا ہے، ان کو بنیادی ضروریات سے بھی محروم کر رکھا ہے، جو کہ کئی دہائیوں سے کشمیریوں پر اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتا آ رہا ہے اور اب موجودہ حالات میں تو تاریخ کا بدترین کرفیو نافذ کیا ہوا ہے، بھارت سرکار کے اس شرمناک اور گھٹیا ترین رویے کی وجہ سے اگر سرزمین مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل کا نام بھی دے دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
اسی طرح ہمارے پیارے وطن عزیز پاکستان میں یہ خاصیت روز روشن کی طرح نمایاں ہے کہ جب سے تنازع کشمیر شروع ہے یعنی بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے، حکومت چاہے کسی بھی پارٹی کی ہو، وہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اُجاگر کرتی ہے اور دنیا کے ہر فورم پر پاکستانی عوام اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو پیش کرتی ہے۔ اس اعتبار سے حکومت پاکستان اپنے قائد بانی پاکستان محمد علی جناح رحمہ اللہ کے قول پر عمل پیرا ہے،جو قائد رحمہ اللہ نے کہا تھا ” کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے” تو اس شہہ رگ (کشمیر) کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کرنے کے لیے ہماری پوری قوم اخلاقی ، مذہبی، سیاسی اور سفارتی سطح پر ہر ممکن کوشش کرتی ہے ۔ اسی طرح ہم پاکستانی عوام نے بانی پاکستان کے فرمان کو اتنی اہمیت دے رکھی ہے کہ وطن عزیز میں کشمیر کی آزادی کے لیے بہت زیادہ تحریکیں اپنے اپنے انداز میں کام کر رہی ہیں ۔اس بات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ چاہے یوم یکجہتی کشمیر ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور دن ہو وطن عزیز کے باشندے اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑتے اور نہ ہی چھوڑیں گے(ان شاء اللہ) ۔
اس بات میں بھی کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ کئی دہائیوں سے کشمیری نوجوان، بچے، بوڑھے، مائیں اور بہنیں اپنے حق کو منوانے یعنی عظیم نعمت “آزادی” کو حاصل کرنے اور اپنے مستقبل کو وطن عزیز پاکستان سے وابستہ کرنے کے لیے بھارت سرکار کے خلاف سینہ سپر ہیں اور وہ اپنے اس حق(آزادی) کو منوانے کے لیے بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں اور دے رہے ہیں ، وہ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کر رہے۔
شاعر اپنے انداز میں کچھ یوں ترجمانی کرتا ہے:
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
کہ یہی سرخی ہے آزادی کے افسانے کی یہ شفق رنگ لہو
جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی
جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی
دور جس صبح درخشاں سے اندھیرا ہو گا
رات کٹ جائے گی گل رنگ سویرا ہو گا
خون میں ڈوبی ہوئی سب رہگزاروں کو سلام
چرخ آزادی کے رخشندہ ستاروں کو سلام
سرفروشوں ،غازیوں کو شہر یاروں کو سلام
اب جو مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی برپا ہے وہ دن بدن عروج پر پکڑتی جارہی ہے اور مضبوط تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہر گلی کوچہ میں آزادی اور ملک پاکستان سے وابستگی کے نعرے لگ رہے ہیں اب وہ دن دور نہیں ہے بلکہ عنقریب (ان شاء اللہ الرحمن)ہے کہ فرزندان کشمیر کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور ملک پاکستان اور کشمیر کے درمیان موجودہ حائل تمام رکاوٹیں زمین بوس ہو جائیں گی اور ان نعروں کی ضرورحقیقی تکمیل ہو گی جو کہ اہل کشمیر اور اہل پاکستان دونوں کی آواز ہے، “ہم لے کے رہیں گے آزادی”، “ہے حق ہمارا آزادی” ، “کشمیر بنے گا پاکستان”۔ ان شاء اللہ العزیز ۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial