دنیا پر کنٹرول اور قبضہ اور بدمعاشی۔

پوری دنیا کی تاریخ ایک طرف اور خاص یہ دو سو سال ایک طرف۔ اس سے پہلے مسلمان اور دیگر مذاہب آپس میں جنگیں بھی لڑ رہے تھے علاقے بھی قبضہ ہوتے تھے لیکن جنگی توازن برابری کی بنیادوں پر ہوتا تھا یا کچھ وقت کے لئے ادھر یا ادھر ہو جایا کرتا تھا لیکن خاص ان دو سالوں میں کیا ایسا ہوا کہ مسلمان بالکل ہی زمین سے لگ گئے اور دوسرے غیر اسلامی ممالک۔(وہ کونسا ایسا ہتھیار.جددید چیز ہے جس کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے اور غیر اسلامی ممالک آگے چلے گئے. بہت بڑی تحقیق. اور یہ سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں.) ہر لحاظ سے ہر معاملے میں ہم سے بہت آگے چلے گئے مسلمانوں سے مطلب۔ جنگیں کس طرح لڑی جارہی کس طرح جنگی برتری اور دبدبہ روپ اور ملکوں پر قبضے کیے جارہے اور کونسا ملک اس وقت طاقتور بن چکا ہے اور کون سے ممالک کیوں طاقتور بنے کونسی طاقت ان کے ساتھ ہے کس طرح کے جدید ہتھیاروں کی مدد سے یا وہ ہتھیار کیا ہیں۔اور ایسے زہری اور خفیہ ہتھیاروں کی طاقت کیا ہے اور ان ہتھیاروں سے کیا کام لیا جا رہا ہے اور کس طرح جنگی برتری حاصل کی گئی ان ہتھیاروں کے ذریعہ سے کچھ اشارے دیتا ہو۔؟
سیٹلائٹ۔
تیر تلوار نیزے گھوڑے ہاتھی اونٹ پہلے سواریاں پہلے ہتھیار پھر اس کے بعد جدیدیت خاص ان دو سالوں کے بعد کہ ہتھیار۔ کچھ میں بتا رہا ہو۔مختصر اشارے اور تفصیل مکمل نہیں بتائی جا رہی لیکن مین مین پوائنٹ بتا رہا ہو۔
انٹرنیٹ۔کمپیوٹر۔
ظاہری ہتھیار تو آنکھوں سے سب کو نظر آتے ہیں لیکن ان سے انتہائی خطرناک ھتیار جو آنکھوں سے نظر نہیں آتے لیکن نظر آنے والے ہتھیاروں سے انتہائی خطرناک ہتھیار اور خطرناک ریزلٹ دے رہے۔
فضائی جنگی طیارے۔زمینی جدید افواج ٹینک گولابارود چھوٹی بڑی مشین گنیں جدید سپر سونک بلسٹک میزائل۔بارود۔تمام چھوٹے بڑے ظاہری ہتھیار ٹینک توپ کے گولے بارود۔حیاتی جراثیمی ہتھیار بائیولوجیکل ہتھیار۔کیمیکل گیسز۔معاشی نظام۔ڈالر۔انٹرنیٹ۔ہیکنگ ہیکر سائیبر وار۔تمام مصنوعات۔الیکٹرونک پرنٹ میڈیا۔سوشل میڈیا۔اور دیگر بہت کچھ جن کی تفصیل بتانا مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ سب سے اہم اور مین مین پوائنٹ آگئے سامنے۔
سیٹلائٹ خلاؤں میں۔جو جو ممالک بھی سب سے پہلے گئے۔بچے بچے کو پتہ ہے۔یہی سے طاقت کا توازن بگڑا ہے۔یہی وہ ہتھیار ہے جو پوری دنیا کو۔کنٹرول کرنے والے کنٹرول کر رہے۔اوپر جتنے بھی جدید اسلحہ۔ ان چیزوں کے نام لیے ہیں یہ ساری چیزیں چلانے کے لئے اور ان کو صحیح جگہ استعمال کرنے کے لیے۔یا ان کی نشاندہی کرنا۔جاسوس کرنا۔فضائی جنگی طیاروں کی موومنٹ۔تباہ کرنا یا۔جدید سپر سونیک بلسٹک میزائل چلانا۔ہر چیز کا تعلق سیٹلائٹ سے ہے انٹرنیٹ سے جدید کمپیوٹر جدید سایبر وار ہیں۔
اس وقت جدید ہتھیاروں میں ایٹم بم جدید سپرسونک بیلسٹک میزائل جدید جنگی فضائی طیارے۔اور ان کی معلومات جس کے پاس بھی بہترین ہوگی اور جن کے پاس جدید جدید ریڈار ہتھیار عقل دماغ کا استعمال اور تکنیکی حوالے سے زمینی معلومات مخبریاں سیٹلائٹ۔ جاسوسی ۔ہونگی وہی ملک جیتے گا۔
روس کے پاس امریکہ کے پاس اور اس کے بعد پاکستان چائنا کے پاس دنیا کا جدید ترین سپرسونک بلسٹک میزائل اور دنیا کے خطرناک ترین ہتھیار ایٹم بم ہائیڈروجن بم اور دیگر مہلک ہتھیار جدید جنگی تکنیک اور طاقتور آرمی۔ موجود ہے۔
سیٹلائٹ کی دنیا میں امریکہ روس پاکستان چائنا۔اور دیگر کچھ ممالک شامل ہیں جو سیٹلائٹ کی دنیا میں داخل ہوچکے ہیں۔
اور کبھی کبھی طاقت کا توازن الٹی گنتی شروع ہوجاتی ہے۔
اس وقت طاقت کے توازن کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
چائنا نے فور جی کے مقابلے میں فائف ایف جی سیون۔سیٹلائٹ بیلسٹک میزائل۔سمجھ لیں کہ یہ جو نام لیے ہیں تین چار ممالک کے یہ اس وقت ہم پلہ ہو چکے ہیں۔
اگر امریکہ روس چائنا پاکستان۔ کے ۔سپر سونک بلسٹک میزائل کا توڑ موجود نہیں۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ طاقت کا توازن برقرار ہو چکا ہے اگر کسی ایک ملک کے پاس موجود تھے جیسے پہلے کچھ عرصہ پہلے تھے تو دوسرے ملک بالکل کمزور تھے۔لیکن اب ان تمام ممالک کے پاس ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ طاقت کا توازن برقرار ہوچکا ہے اب کوئی بھی۔آگے نہیں جا سکتا۔
اسی طرح جدید زمانہ ہے جدید طریقے سے جنگ لڑی جارہی ہے۔نظر نہ آنے والے جدید ہتھیار۔جدید طریقہ کار حملے کرنا دشمن کو کمزور کرنا دشمن کی معیشت کو کمزور کرنا دشمن کے پورے پورے ملک کو کو الجھا کے رکھ دینا چائنہ کی مثال میرے آپ کے سامنے ہے۔
دیگر اسلامی ممالک کی مثال بھی میرے آپ کے سامنے ہے کس طرح کہیں پر براہ راست تباہ و برباد کر دیا گیا لیکن براہ راست تبہا کرنے سے پہلے کیا نظر نا آنے والے ہتھیار استعمال کئے گئے اور پروپیگنڈے اور دیگر آلات جدید۔جاسوسی انٹرنیٹ۔موبائل۔سی سی ٹی وی کیمرے۔لوکیشن۔تمام الیکٹرونک چیزوں کی شکل تبدیل کرکے ان سے جاسوسی کے کام لینا۔اور دیگر بہت بڑی تفصیل ہے لیکن میں یہاں پر مختصر کرتا ہوں۔یا دو چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہے ایک ظاہری ھتیار اور ایک نظر نا آنے والے ہتھیار اور نظر نا آنے والے ہتھیاروں میں بھی وہ ہتھیار جن کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا لیکن وہ انتہائی خطرناک ہتھیار ہے
اس وقت کہیں پر طاقت کا توازن الٹی گنتی کی طرف چل پڑا ہے اور کہیں۔پر جو کمزور ممالک تھے ان کا توازن بہتری کی طرف چل پڑا ہے مطلب ہر چیز کا توڑ ہے۔
اگر سیٹلائٹ سے اوپر کی مخبری کی جاسکتی ہے تو اوپر کے سیٹلائٹ کو دھوکا بھی دیا جا سکتا ہے مثال کے طور پر کچھ ایسی گیسز اور کچھ ایسی۔دھات نما چادریں وغیرہ جن کی تفصیل بتانا میں ضروری نہیں سمجھتا۔دھوکا دیا جاسکتا ہے یہ صرف مثال دی ہے اس طرح بہت ساری چیزوں کا توڑ بھی موجود ہے کہیں پہ اگر ۔ہتھیاروں کا۔توڑ موجود نہیں ہے تو۔ان کا توڑ کسی اور شکل میں موجود ضرور ہے۔
اب گوگل سیٹلائٹ انٹرنیٹ سائبر کرائم۔ہیکنگ ہیکر سائبر وار۔آل سوشل میڈیا۔ان کے ذریعہ سے کسی بھی ممالک کی افواج کی نقل و حرکت اور آپس کی خفیہ بات چیت خفیہ جدید ہتھیاروں کے فارمولے لے۔ مطلب کہیں بھی جنگی فضائی تیار ہواؤں میں اڑتے ہیں کسی ایک ملک پر حملہ کرنے کے لئے دیگر دوسرے ملک کو خبر ہو جاتی ہے اور وہیں سے ہٹ کرتے کہ ختم کر دیتا ہے۔اسی طرح سپرسونک بلسٹک میزائل جیسے ہی فضا میں بلند ہوتے ہیں کسی ملک کو ختم کرنے کے لیے دوسرے ملک کے پاس ریڈار جدید سسٹم کی وجہ سے معلومات ہو جاتی ہے اور وہ اسے ختم کرنے کے لیے اپنے اینٹی بلسٹک میزائل فضا میں چھوڑ دیتا ہے۔اسی طرح چند ممالک کے پاس سپرسونک بلسٹک میزائل کا توڑ موجود نہیں دعویٰ ہے ان کا۔لیکن کچھ کمزور ممالک نے توڑ بنا لیا ہے ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔تفصیل بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔آپ سمجھ گئے ہوں گے۔جدید ہتھیار جدید جنگیں جدید طریقوں سے لڑی جارہی ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں آپ ہزاروں بلیسٹک میزائل اگر سمندر میں خالی سمندر میں مار دے تو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ آپ کا اپنا نقصان ہوگا ہاں اگر ایک چھوٹا سا میزائل صحیح نشانے پر سیٹلائٹ کی مدد سے اور جدید جنگی تکنیکی مدد سے اور دیگر آلات کی مدد سے جاسوسی کی مدد سے صحیح مقام پر مارا جائے تو شاید اتنا بڑا نقصان کہ وہ ملک ہی ٹوٹ جائے۔اسے کہتے ہیں نظر نہ آنے والے ہتھیاروں کا استعمال ہے۔اور جن کے نام بھی کوئی نہیں جانتا۔
سارا کا سارا دارومدار سیٹلائٹ کمپیوٹر انٹرنیٹ جدید سایبروار کے گرد گھوم رہا ہے۔
ایک دوسرے کی لوکیشن ٹریس کر لی جاتی ہے۔لیکن طاقت کا توازن کب برابر ہوا جب دیگر ممالک نے بھی یہ ٹیکنالوجی سٹلائٹ اور دیگر آلات جدیدہ حاصل کرلئے اور کہیں پر حاصل کیے اور کہیں پر توڑ پیدا کرلیا ہے اور آلات اور ہتھیاروں کا توڑ مطلب۔۔
پوری دنیا کا کنٹرول۔پوری دنیا کی معیشت کا کنٹرول۔
ایک طرف مسلمان ممالک ایک طرف غیر اسلامی ممالک۔
اسی طرح بہت لمبی تفصیل ہے۔
امریکہ اسرائیل ۔ضرور جدت میں جدید اسلحہ سازی میں انہیوں نے ضرور ترقی کی اور پوری دنیا پر اس وقت یہ۔اپنی بدمعاشی بھی کر رہے ہیں۔اور خون اور آگ کا کھیل بھی کھیل رہے ہیں۔ان کے پاس جدید ہتھیار جدید اسلحہ سازی اور جدید دماغ کی بات جہاں تک کی جاتی ہے تو یہ الگ بحث ہے پھر کسی موڑ پر۔بتاؤں گا بلکہ میں اپنی پچھلی۔کچھ تحریروں میں بتا چکا ہوں۔پوری دنیا کی تاریخ ایک طرف ہے جب سے دنیا بنی ہے لیکن خاص ان دو سالوں میں کچھ خاص الگ سے ہو رہا ہے۔ہر ترقی غیر اسلامی ممالک سے ہے۔ہر پسپائی تباہی بربادی بدنامی مسلمانوں کے سر تھوپ دی جاتی ہے ۔ اس کی تفصیل بہت لمبی ہے لیکن میں مختصر کر دیتا ہوں ہر نبی نے بلکہ ہمارے آقا پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے۔میرے آپ کے پیارے نبی نے ہمیں دجال کے بارے میں بہت تاکید سے بتا دیا تھا۔آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام کی تعلیم کو دیکھتے ہیں اور آج کے زمانے کو دیکھتے ہیں اور پوری دنیا کی تاریخ ایک طرف رکھتے ہیں اور خاص ان دو سالوں کی تاریخ ایک طرف رکھتے ہیں تو ان دو سالوں میں خاص کوئی الگ سے تبدیلی اور خاص چل رہا ہے کی تیاریاں جھولی سسٹم دجال کے پاس ٹیکنولوجی دجال کا نظام ایک آنکھ کیمرے کی بھی ایک آنکھ۔گوگل۔ایک آنکھ سے مراد صرف میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایک آنکھ دجال کی ہوگی اور اس وقت جتنا بھی نظام انٹرنیٹ پر چل رہا گوگل اس کی بھی ایک آنکھ ہوتی ہے یہ بالکل میں نہیں کہہ رہا لیکن میں یہ ضرور کہوں گا جدیدٹیکنالوجی اس وقت کا جدید نظام یہ سارا کا سارا دجال کی زیر سرپرستی ہو رہا ہے یا آنے والے وقتوں میں دجال خود ہوگا یہ تو وقت ثابت کرے گا لیکن یہاں میں مختصر کرتا ہوں اس لئے میں الگ سے لکھ چکا ہوں اور الگ سے آنے والے وقت میں لکھوں گا پوری تفصیل سے۔
اب میں آتا ہوں اپنے پاکستان کی طرف۔
آپ کی پاک آرمی نہ ہوتی تو آپ کا ملک برما شام عراق یمن بن چکا ہوتا۔
آپ کی پاک آرمی واسایل نہ ہونے کے باوجود دنیا کے جدید ترین دشمن ممالک کا مقابلہ کر رہی ہے اور دشمن کا توڑ پیدا کر رہی ہے اور دشمن کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔
کچھ وہ لوگ جو مذہبی شکلوں میں اور دیگر سیاسی شکلوں میں پاک فوج پر الزام لگاتے ہیں میں آج ان لوگوں کو جواب دینا چاہتا ہو۔
اگر پاک فوج آج رستے سے ہٹ جائے تو اس ملک کا کیا بنے گا پاکستان کے بچے بچے کو پتہ ہے دشمن ہمیں چیرپھاڑ کرنے کے لئے ہماری آنے والی نسلوں کو ختم کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں کیا دیگر مسلم ممالک کا حل نہیں دیکھتے ہو کروڑوں زندگیاں تباہ و برباد ہو چکی ہیں ۔وہاں کے حالات دیکھو جو۔عزت دار غیرت مند مسلمان ہوا کرتے تھے۔اور اسلامی طور طریقے پر بھی جلتے تھے۔آج وہاں کی عزت دار بیٹیاں یورپ کی گلیوں میں دو ڈالر میں فروخت ہوتی رہی ہیں اور پورے خاندان تباہ کر دیے گئے ہیں چھوٹے معصوم بچے آج در بدر کی ٹھوکرے زندگی گزار رہے ہیں بھیک مانگتے پھر رہے ہیں۔اور بہت سارے لوگوں کا اسلام بھی چھن گیا ہے۔صرف دو روٹی کی خاطر کلمہ سے انکار کروا رہے۔دشمن طاقتیں۔
یا مذہبی کسی کو چھیڑوں تو وہ۔اپنی دوکان چلانے کے لیے مذہب کا فتوی لگا دیتے ہیں۔میرا جواب یہ ہے اگر فوج تمہاری دشمن ہوتی تو تم یہاں نہ بیٹھو ہوتے ۔اور پتہ نہیں تم شاید اسلام کو بھی چھوڑ دیتے۔جا کے دیکھو دیگر ممالک کا حال۔
یہاں ہر بندہ اپنے مفادات اپنی سیاست فرقہ واریت قوم پرستی اپنی دوکان اپنا پیٹ پالنے کے چکر میں۔جس مجرم غدار کو پکڑو تو وہ اپنی قوم فرقہ واریت قوم پرستی مذہب کو سامنے لا کر کھڑا کر دیتا ہے اور پاک فوج پر ہی الٹا الزامات اور فتوی دینا شروع کر دیتے ہیں۔
جنرل پرویز مشرف کے بارے میں کہتے ہیں۔غدار ہے اس نے غداری کی ہے۔اگر غداری کی ہوتی تو اس دن کیا پتہ چلتا آپ کو مجھے تمام سیاسی مذہبی اور تمام لوگوں سے سوال کرتاہوں جس دن امریکہ افغانستان آرہا تھا پرویز مشرف غدار ہوتا تو آپ کا ملک خاموشی سے امریکا سے مل کر۔ تبھا کروا دیا جاتا تو کیا پتا چلتا آپ کو۔ یہی عقل والوں کے لیے نشانی ہے کہ یہ بندہ غدار نہیں تھا آپ کا مخلص تھا تاریخ کی خطرناک ترین جنگ لڑی گئی آج اس کا رزلٹ بھی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کا نام نہاد سپرپاور ملک تباہ و برباد ہو گیا پہاڑوں میں اور صرف اور صرف۔اسی وردی کی بدولت۔۔اگر پرویز مشرف کا دار ہوتا تو آپ کا ملک بھی آج ان ممالک کی صف میں ہوتا۔
برما شام عراق بن چکا ہوتا
آج میں پوچھتا ہو ان سب غدار سیاسی۔۔۔ آج میں پوچھتا ہوں ان تمام مذہبی۔سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے وہ بیوقوف نادان جنہوں نے کبھی مکھی نہیں ماری جن کو جنگ کے اصول کا پتہ نہیں کبھی اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالی ملک اور اسلام کے لئے۔ کبھی کلاشنکوف چلانا نہیں آتی پٹخا بچوں بچوں کا بعد میں پھٹا ہوگا۔ اور یہ الزامات لگانے والے۔ چارپائی کے نیچے پہلے چھپتے ہونگے ان کو کیا پتا سیٹلائٹ۔ جدید وار کیا ہوتی ہے ان کو کیا پتہ دیگر جراثیمی ہتھیار کیا ہوتے ہیں ان کو کیا پتہ بائیولوجیکل ہتھیار کیا ہوتے ہیں ان کو کیا پتہ مخبریاں جاسوسیاں کیا کیسے کی جاتی ہیں ان کو کیا پتا۔ جدید فضائی جنگی طیاروں کو کیسے تباہ کیا جاتا ہے ان کو کیا پتا۔ہائیڈروجن بم بلسٹک میزائل۔جدید ٹینک جدید طیارے جدید گاڑیاں۔جدید چھوٹے بڑے ہتھیار۔جدید فارمولے۔ان کو کیا پتا میرا سوال ہے آپ کو کیا پتا کہاں کہاں خلاؤں میں فضاؤں میں سمندروں میں شہروں میں مقابلے ہو رہے۔ملک کے اندر اور باہر کن کن زمینوں پر مقابلے کیے جا رہے۔
لال مسجد بھی ہماری ہے اسلام بھی ہمارا ہے وطن عزیز پاکستان بھی ہمارا ہے پاک فوج بھی ہماری ہے لیکن بہت تکلیف ہوتی ہے جب آپس کے بے وقوف لوگ اور اپنے دماغ پر چلنے والے۔حرکتیں کرتے ہیں اور دشمن کو فائدہ دیتے ہیں نادانی میں یا سمجھداری سے۔میرا سوال ہے کچھ لوگوں سے۔
امریکا سے گیم کی جارہی تھی۔دوست بن کر امریکہ کی تباہی کا سامان پیدا کیا جا رہا تھا۔
ادھر سے اسی دوران لال مسجد کا معاملہ کھڑا ہوگیا۔کس طرح آپ کو پتہ ہے ہم مجبور ہے اسلامی ممالک۔اور لال مسجد والوں نے اس مقام پر لاکر کھڑا کردیا تھا کہ ان کو سمجھایا جائے لیکن یہ نہیں سمجھ رہے تھے ہر طرح سے سمجھایا گیا بالکل سمجھ نہیں رہے تھے بلکہ دن بدن بالکل آگے بڑھ رہے تھے اگر ان کو نہ روکا جاتا تو امریکہ کو شک پڑ جاتا کہ یہ ہم سے مخلص نہیں ہیں پاکستان کے اینکر رہا ہے افغانستان بھی جاتا پاکستان بھی جاتا یہ اس بات میں دوسری کوئی دوسری رائے نہیں۔کیا اسلام نے ہمیں جنگی حکمت عملی کا حکم نہیں دیا ہے۔پیارے حضور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے آپ کے آقا کے وہ جنگی معاہدے جو کفار کے ساتھ کیے گئے کیا وہ موجود نہیں ہیں کیا کہیں پر علاقے نہیں چھوڑے گئے کہیں پر خاموشی اختیار نہیں کی گئی وہ ایک پوری تفصیل میرے آپ کے سامنے ہے آج ہم کمزور نہیں ہیں۔
چائنا خود کو کتنا طاقتور ملک سمجھتا تھا کیا حال کر دیا چھوٹے سے جراثیمی حملے کی وجہ سے۔
پاکستان جب سے بنا ہے پاکستان کو توڑنے تمام برباد کرنے کے سازشیں اور پلان چل رہے ہیں پاک فوج جب سے لڑتے لڑتے آج تک ملک کو بچا بچا کر۔دشمنوں سے بچا رہی ہے۔لیکن اندر کے جس کو بھی پکڑو وہی پاک فوج پر شروع ہوجاتا ہے اندر کے تمام سیاسی جمہوری مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے میں ایک سوال پوچھتا ہوں آپ نے آج تک کیا کیا ہے میں سب سے پہلے مذہبی جماعتوں سے پوچھتا ہوں آپ نے سوائے۔افراتفری فرقہ واریت ایک دوسرے پر فتوہ ایک دوسرے کی تذلیل کرنا اور آپس میں طاقت کو تقسیم کرنے کے علاوہ کیا آج تک دیا ہے۔ہمارے اسلام کو مٹانے کے لیے ازل سے لے کر آج تک نادیدہ شیطانی قوتیں اور ان کے ماسٹر مائنڈ ممالک بچے بچے کو پتہ ہے وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے اشعاراسلام ہمارے قرآن پاک کی بے حرمتی ہمارے آقا دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں۔کرواتے ہیں ہیں جان مال گھر بار بچوں سے پیاری ہستی کے شان میں گستاخیاں کرائی جاتی ہیں وقفے وقفے سے کرائی جاتی ہیں ہیں۔جب بھی دشمن نے یہ کام کیا ہے آپ کیا سمجھتے ہو یہ کوئی فرد واحد کھڑا ہوکے کام کرتا ہے نہیں نہیں یہ باقاعدہ ماسٹرمائنڈ دشمن ممالک کی طرف سے پلاننگ کے ساتھ یہ کام کرائے جاتے ہیں لیکن آپ اور یہاں دیکھنے میں یہ آیا ہر بندے نے یہاں اپنی مذہبی دکان چلائی ہے اور جو اس کے دشمنوں کو بےنقاب کرتے اور گستاخیاں کرنے والے ماسٹر مائنڈ کو پکڑتے ان کو نشانہ بناتے لیکن صرف مذہبی جماعتوں نے خود ہی آپس میں ایک دوسرے کے گریبان پکڑے ہیں اور افراتفری مچای اور احتجاجی مظاہر جلاؤ گھر آؤ اپنے ہی ملک کو نقصان دیا ہے اس کے علاوہ مجھے کوئی ایک مذہبی جماعت بتاؤ جس نے گستاخوں کے ماسٹر مائنڈ مالک سے بدلہ لیا ہو۔کس کو نہیں پتہ ماسٹرمائنڈ مالک کون ہے۔
پوری دنیا میں نظر گھما کر دیکھو ایک پا ک فو ج ہی ھے جو ماسٹرمائنڈ وہ گستاخیاں کروانے والے ممالک ماسٹر مائنڈ کو تباہ و برباد کر رہی بدلہ لے بھی چکی بدلہ لے بھی رہیں پاک فوج میں یہ فرق ہے پاک فوج احتجاجی مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ اور ایک دوسرے پر الزامات نہیں لگاتی بلکہ اعلانات بھی نہیں کرتی بلکہ سیاست بھی نہیں چمکاتی بلکہ اپنا نام بھی نہیں شو کرتی لیکن دشمن کو تباہ و برباد کر رہی ماسٹرمائنڈ گستاخ ممالک کو راکھ کا ڈھیر بنا رہی اس سے بڑی اور کیا نشانی ہوگی یہ باتیں نہیں ہے آنکھوں سے نظر آرہی ہے بچے بچے کو پتہ ہے پاک فوج کس طرح دشمنوں کو راکھ کا ڈھیر بنا رہی۔
اب میں آتا ہوں سیاسی۔غداروں کی طرف۔
پاک فوج دشمن ہوتی تو پاک فوج کب کا ملک تباہ کروا چکی ہوتی محترمہ بے نظیر کو جب۔عالمی نادیدہ شیطانی قوتوں نے شہید کیا۔ملک کی کیا حالت ہو گئی تھی اگر اس وقت فوج غدار ہوتی تو فوج ایک اعلان کرتی کہ ملک توٹ چکا ہے کنٹرول ختم ہو چکا ہے بس آج کے بعد ملک تباہ تو کون روکتا اور کسے پتہ چلتا کہ کیا ہوا ہے۔ فوج تھی جنہیں۔جنہوں نے دنیا کی تمام خطرناک دشمن ایجنسیز کی گیم کو الٹ کر رکھ دیا اور ملک کو ٹوٹنے سے بچا لیا تھا اس طرح کی ہزاروں نشانیاں موجود ہیں اگر آپ اپنی آنکھوں سے اور اپنے دماغ سے سوچو تو بہت ساری نشانیاں آپ کو ایسی ملیں گے کہ ایک واحد آپ کی ملک کی فوجی ہے جو آپ کے ملک کو بچا بچا کر رکھ رہی ہیں
غدار غدار اور کیا کیا فتوی دیتے رہتے ہو وہی لوگ آپ کے ملک کو بچا گئے تھوڑا عقل سے دماغ سے کام لو سب سمجھ آ جائے گا ۔
اور سیاسی غداروں نے کیا کیا ہے آج تک صرف ملک کو تباہ و برباد کرنے اور۔خونریزی تباہی بربادی دشمنوں کی باتوں کو پورا کرنا دشمنوں کے ایجنڈوں کو پورا کرنا فرقہ واریت قوم پرستی پھیلانا آپس کی طاقت کو تقسیم کرنا مایوسی پھیلانا اور سیاسی غداروں نے مذہبی لیڈران نام نہاد سیاسی جمہوروں نے کیا دیا ہے۔
اس لئے کہتا ہوں کہ ملک کے اندر سے مذہبی ہو یا سیاسی ہو بزنس مین ہو کوئی بھی منظم نظام اسلامی ملک کا کمزور ہو یا مضبوط ہو۔ کے آگے اپنی دوکان نہیں چمکا سکتا جب اپنی مذہبی سیاسی بزنس مین ہر قبیلہ قوم پرستی فرقہ پرستی ہر بندہ جب اپنی اپنی چلانا شروع کر دے گا تو ملک تباہ برباد ہو گا یہاں یہی چل رہا ہے مذہبی کو چھیڑو تو وہ فتوی دینا شروع کر دیتا ہے۔سیاسی کو جھاڑو تو وہ بھی اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔
یہ ڈرامے تمہارے پرانے ہو گئے پاکستانی قوم بہت آگے جا چکی ہے پاکستانی قوم اب کسی کو نہیں چھوڑے گی۔
پوری قوم کو پتا ہے ہم اتفاق کے تحت سے ہی زندہ رہ سکتے ہیں اور ایک ہی مخلص ہیں ہماری پاک فوج اور وہی پاک فوج مقابلہ کر رہی ہے باقی سب کے سب پاک فوج کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں اور پاک فوج کی ٹانگیں کھینچنے والے بھی سورج کی روشنی کی طرح آج سورج کی روشنی کی طرح سب کو صاف نظر آ رہے ہیں۔
تفصیل بہت لمبی ہے ثبوت بھی موجود ہے اور ہر بچے بچے کو سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں انشاءاللہ آنے والے وقتوں میں مزید میں تفصیل سے اوپر جو موضوع شروع کیا تھا وہ بتاؤنگا اوپر موضوع میں نے کچھ اور شروع کیا ہے اور نیچے میں نے تفصیل کچھ اور بتائیں ہے اس لیے کہتے ہیں کہ نظر آنے والی چیزیں اور نظر نہ آنے والی چیزوں کا آپس کا تعلق ہوتا ہے۔
اس وقت بہت خطرناک مقابلہ جاری ہے دشمنوں سے۔
ضرور ہمارے ملک میں قادیانی اس وقت موجود ہیں۔حقیقت میں قادیانی ظاہری کفار سے بڑے کفار ہیں ہمارا لبادہ اوڑ کر۔قادیانی خود کو۔کافر کہہ دے یا خود کو غیر مسلم کہتے ہیں جیسے یہودی عیسائی ہندو کہتے ہیں ہماری کوئی ان سے لڑائی نہیں۔لیکن دھوکہ دیتے ہیں خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور یہی ہمیں فرقہ واریت کی طرف دھکیل رہے ہیں یہی اشعار اسلام کو نقصان دے رہے ہیں یہ مسلمانوں کو لڑا رہے ہیں شکل صورت سے مسلمان خود کو کہتے ہیں لیکن کام یہود نصاریٰ سے بھی دو قدم آگے ہیں بچے بچے کو پتہ ہے میں تمام مسلمانوں سے کہتا ہوں آپ خود کو مضبوط کرو ہم اپنے آپ کو مضبوط کریں بجائے اس کے کہ ہم ایک دوسرے کو فتوے دے کر ایک دوسرے کی تذلیل کریں جب یہاں کسی کو پکڑو تو وہ دوسرے کو فتوی دیتا ہے اور اس خطرناک فتویٰ دیتا ہے اس ابھی شروع ہوجاتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ دشمن یہودونصاریٰ امریکہ یہود ھند قادیانی سے بھی بڑے دشمن ہمارے اپنے کچھ لوگ بنے ہوئے ہیں جو مذہبی سیاسی جماعتوں کی شکلوں میں ہمارے آگے آ چکے ہیں یہ ان ظاہری دشمنوں کفار سے بھی بڑا نقصان دے رہے۔
ہم اس وقت کتنا مجبور ہیں چائنا کی مثال لے لو۔
پوری دنیا پر مشیت کا کنٹرول امریکہ اسرائیل کا ہے۔
چھوٹی سی مہنگائی ڈالر کا اوپر جانا خود سوچو کس طرح کی تباہی بربادی ہورہی کتے کو بھی مارے تو کتا پتھر کے پیچھے نہیں جاتا مارنے والے کے پیچھے جاتا ہے آپ خود سوچو یہاں سیاسی اور مذہبی سبھی ملک کے اوپر شروع ہو جاتے ہیں کیا یہ جنگل سے آئے ہیں کیا یہ جنگلی ہے کہ پاکستانی قوم جنگل میں رہتی ہے کہ ہم سب جنگلی ہیں ہمیں پتا نہیں ڈالر کون اوپر کر رہا کون ہے معاشی طریقے سے تباہ کر رہا کون مہنگائی کا سیلاب برپا کرچکاہے سب یہود نصاریٰ ہیں۔
اگر ہم امریکہ اور ان سب کی غلامی کرتے رہے بم دھماکے ہوتے رہیں تباہی بربادی ہوتی رہے ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہے ملک میں تبھای ہوتی رہے ملک میں بجلی نہ ہو گیس ہسپتال ڈیم سڑکے ترقی۔ نا ہو تباہ و برباد ہوتے رہیں ہم ان کے غلام رہیں اور ہمارے اسلام کی بدنامی ہوتی رہی اشعار اسلام کی بدنامی ہوتی رہے ہمارے آقا کی شان میں گستاخیاں ہوتی رہی جیسے پہلے ملک چل رہا تھا ہم نے امریکہ کے اسرائیل کے غلام رہی تو پھر ڈالر بھی ٹھیک رہے گا اور سب کچھ ٹھیک رہے گا لیکن کیا ایسا کچھ ہوا کہ آج امریکہ بھی خفا ہے امریکہ۔
آپ کی پاک فوج اکیلے مقابلہ کررہی ہے کتنے دشمن ممالک ہیں ایک طرف بھارت دوسری طرف افغان عربی تیسری طرف امریکہ اسرائیل۔
اور پھر اپنے بھی سیاسی مذہبی ٹانگیں کھینچے۔
انشاءاللہ ڈالر بھی ٹھیک ہو جائے گا ڈالر کی ضرورت بھی نہیں آج ہم ایک ہو جائیں تو ہم اس کاغذ کی کرنسی اس جعلی ڈالر کو جوتے کی نوک پر رکھ کر خیرآباد کہہ ہمارے حال یہ ہے کہ تھوڑا سا معاشی طریقے سے دشمن نے جھٹکا دیا ہے اور ہمارے اپنے لوگ اپنے ہی دست و گریباں اپنے ہی ملک پر بھونک رہے ہیں۔
مقابلہ جاری ہے میں صرف کہوں گا پوری قوم سے کہ ایک ہو جاؤ
ہم میں کوئی فرقہ واریت قوم پرستی ہم میں کوئی بریلوی اہل حدیث دیو بندی شیعہ نہیں۔ہم صرف اور صرف ایک مسلمان
ہمیں کوئی پنجابی پختون سندھی بلوچ نہیں۔صرف ایک قوم مسلمان۔
جس دن ہم نے ایک طاقت بن کر دنیا کو دکھا دیا اور ایک رستے پر چل پڑے اس دن ہم دنیا سے آگے نکلنا شروع ہو جائیں گے۔
ہمیں۔آگے ہی جانا ہے لیکن ہمارے اپنے ہماری ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial