حوروں کے ساتھ ویلنٹائن….از ڈاکٹر ہارون اشفاق چودھری


اس بار ابھی تک ویلنٹائن کا کوئی کھڑاک نہیں ہے۔ یوم حیا والے سوئے پڑے ہیں اور ویلنٹائن والے بھی ابھی بیدار نہیں ہوئے ۔ ہر سو مہنگائی کا عالم اور لوگ محبت سے منہ موڑے معیشت کو رو رہے ہیں۔ کچھ لوگ ٹک ٹاک اسٹار کے ساتھ تازہ تازہ محبت بھری کالوں کے وائرل ہونے کے سوگ میں ہیں۔ کہ فیس بک پر کسی شوخے نے جمعہ کو آتے ویلنٹائن ڈے کا شوشہ چھوڑ دیا، کہ اس بار جمعہ ہونے کی وجہ سے یوم حیا والے جمعہ کی تیاری اور ادائیگی میں اس قدر مصروف ہوں گے کہ ویلنٹائن والے اپنا داؤ لگا جائیں گے۔
یوم حیا والے جتنے چاہے بند باندھیں اور والدین کے لئے ویلنٹائن الرٹ جاری کریں، محبت والے چور راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں، کئی طلبہ گمنام گوشوں کو دریافت کر کے اپنے واٹس اپ گروپس میں ویلنٹائن ڈے پر ان کی سیاحت کی دعوت دے رہے ہیں۔ چونکہ اس دن لال رنگ نہائیت مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے اس لئے اس دن اگر ایران بھی سرخ جھنڈا لہرائے گا تو اسے بھی اعلان جنگ کی بجائے محبت کا اظہار ہی سمجھا جائے گا۔ مردوں نے اس دن متوقع پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لئے پہلے ہی سے لال مفلر اور کوٹ پہننا شروع کردیے ہیں، البتہ خواتین اس دن کی مناسبت سے جو لال چیزیں اکٹھی کرتی ہیں اس کی تیاری ابھی سست رفتاری سے جاری ہے، وہ چودہ فروری کو ایمرجنسی میں زیادہ پیسے لگا کر خود کو لال لال کر لیں گی۔
ویسے تو لال لال کرنے کا کام اماں ابا چپیڑیں مار کر زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔ لیکن جو کام مفت میں ہو اس میں اتنی طمانیت محسوس نہیں ہوتی۔ ویسے بھی ہم وہ قاضی نہیں جو مفت کی حرام شراب پی لیں، کہ کچھ لوگ اپنے ہاتھوں سے کمایا حلال رزق لگا کر طیب پھلوں سے کشید کیے ہوئے اس حرام مائع کو اپنے اندر انڈیلنے میں زیادہ ثواب سمجھتے ہیں، کہ دو جمع ایک کے تناسب سے گناہ کی کثرت کم لگتی ہے۔ ہمارے ہاں ایک روایت یہ بھی کہ لڑائی ڈال کر کسی بھی موقع کو بہت خاص کر لیتے ہیں، یوں وہ لمحہ بے تحاشا اہمیت کر جاتا ہے اور یادوں میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا ہے، ویلنٹائن ڈے پر بھی کچھ ایسا ہی منظر ہوتا ہے۔

ویلنٹائن کی مخالفت کرنے والے زیادہ اور حمایت کرنے والے کم ہیں، پھر بھی جانے کیسے یہ دن کثیر افراد مناتے ہیں، مخالفت کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ دن فحاشی کا فروغ اور نری بے حیائی کا دن ہے، وہ اس دن کی بندش پر اس لئے زور دیتے ہیں کہ اس دن محبت کے نام پر ہوس پوری کی جاتی ہے، جبکہ ویلنٹائن منانے والے کہتے ہیں کہ یہ کام تو پھر سال کے تین سو پینسٹھ دن جاری رہتا ہے تو پھر ایک دن کے لئے ہی ان کی غیرت کیوں جاگتی ہے، اور اگر محبت کا اظہار جرم ہی ہے تو میر کے سخن سے جو محبت کی تڑپ کے انگارے سلگتے ہیں اور وصل کی چاہ لئے محبت کے نام پر جو رومانوی شاعری کی گئی ہے ان تمام محبت ناموں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا ئیں اور اس کی راکھ گنگا میں بہا دیں، محبت کی پاداش میں محبت کا گیت گاتی لیلیٰ کی سانولی رنگت مزید سنولا دیجئیے، محبت میں کھودی فرہاد کی نہر سے سیراب ہونا چھوڑ دیجیئے اور وارث شاہ کی لکھی محبت کی داستان ہیر پر سر دھننے والوں کی گردنیں اڑا دیجیئے، ماضی کے تمام محبت پرور شعرا کو خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے ان کی قبروں پر مذمتی کتبے گاڑھ دیے جائیں اور عصر حاضر کے رومانوی شعرا کو مشاعرے کے بہانے بلا کر کسی ڈی یا سی چوک پر پھانسی دے دینی چاہیے، کہ یہ بھی تو محبت کا تذکرہ کرتے ہیں، نوجوانوں کو بھٹکاتے ہیں اورجذبات ابھارنے والی شاعری کرتے ہیں، اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ہمیں ویلنٹائن منانے دیجیئے۔
یورپ اور امریکہ میں ویلنٹائن محبت کی وجہ سے منایا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ دن اختلاف کی وجہ سے منایا جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے ویلنٹائن منانا ہے تو کوئی یوم حیا منانے پہ مصر۔ ان دونوں کی تکرار سے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ یہ دن دونوں ہی مناتے ہیں۔ کوئی محبت سے منائے یا حیا سے ہماری بلا سے۔ ہمیں تو اتنا پتہ ہے کہ حیا والے اس دن حجاب بانٹیں گے، جنھیں پہن کر کچھ خواتین چپکے سے اپنے اپنے ویلنٹائن سے ملنے چلی جائیں گی۔
سنا ہے ان دنوں مارکیٹ میں کچھ ایسے انجکشن آئے ہیں جس کے لگوانے کے بعد مردوں کو حوروں کا جم غفیرنظر آتا ہے۔ اور ستارے بتاتے ہیں کہ ریاست مدینہ کے دعوے دار باحجاب خواتین کے ساتھ ویلنٹائن منائیں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کئی لوگ ویلنٹائن والے دن یہ انجکشن لگوا کر اپنے گرد حوریں اکٹھی کر لیں، لیکن اس امکان کو بھی رد نہیں کرنا چاہیے کہ اگر دوسرے کونے سے کسی حور کا بھائی نکل آیا تو پھر ہُورے بھی پڑ سکتے ہیں۔

اور ایسا نہ ہو کہ پھر محبت کا دن عداوت کے نام ہو جائے، پھول کی جگہ پتھر آئے، گفٹ کی جگہ گالی آئے۔ لیکن یہ بھی قوی امکان ہے کہ اس معاملے کو رفع دفع کروانے چاند دیکھنے اور چڑھانے والے بیچ میں کود پڑیں اور یوم حیا پر محبت کا درس دیتے نظر آئیں، کہ وہ جانتے ہیں محبت کے معاملے میں دامن تنگ نہیں کرنا چاہیے یہ تو جدھر سے ملے سمیٹ لینی چاہیے اور جدھر سے نہ ملے ادھر بانٹ دینی چاہیے

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial