بلدیاتی نظام کیسے موثر بنایا جا سکتا ہے…؟

بلدیاتی انتخابات سے پہلے پہلے موجودہ پوپلے اور بے بس ڈھانچے کی جگہ ایک بااختیار و با وسائل بلدیاتی ڈھانچے کے قیام کے لیے اسمبلی فوری طور پر بلدیاتی ایکٹ میں بامعنی و موثر ترامیم کرے اور کچھ یوں کرے کہ صوبائی اور بلدیاتی ادارے اور ان کا انتظامی و مالیاتی دائرہ کار کسی بھی عام شہری کو شفاف انداز میں الگ الگ دائروں میں نظر آ سکے۔ یہ قانون سازی محض بہلاوے کے لیے نہیں بلکہ تمام شہروں کی بلدیات کو یکساں بااختیار و باوسائل بنانے کی نیت سے

کی جائے۔

شہروں کی صحت و صفائی، منصوبہ بندی، ہنگامی حالات سے نپٹنے اور بنیادی انتظام چلانے کے ذمے دار تمام بکھرے اداروں کو یکجا کر کے مئیر کے اختیار میں دیا جائے جیسا کہ دنیا کے دیگر بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔

//کچھ ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے تحت شہروں میں قائم کنٹونمنٹ بورڈز اور ڈی ایچ اے وغیرہ خود کو برہمن سمجھنے کے بجائے مقامی منتخب بلدیاتی ڈھانچے کے ساتھ اشتراک پر آمادہ ہو سکیں اور بحران کے وقت اپنی کمان ایک شخص یا ایک امبریلا ادارے کے ہاتھ میں دینے سے نہ ہچکچائیں تاکہ موثر رابطہ کاری کے ساتھ ساتھ دستیاب وسائل بھی جانفشانی کے ساتھ استعمال ہو سکیں۔ نہ کہ ہر ادارہ کڑک مرغی کی طرح اپنے اپنے اختیارات و وسائل پروں میں دبا کر ایک دوسرے سے منہ موڑ کے بیٹھ جائے جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے۔
//وہ تمام تجاوزات جو پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ بھلے بلدیاتی حدود میں ہیں یا کنٹونمنٹ حدود میں۔ ان سب کو بلا تاخیر و مصلحت فوری طور پر منہدم کیا جائے۔ ان تجاوزات پر اگر کمزور طبقات کے لوگ رہائش پذیر ہیں تو انھیں اپنی زندگی رواں رکھنے کے لیے مناسب معاوضہ اور متبادل چھت فراہم کی جائے۔
حالانکہ ان تجاوزات کی قانون حیثیت نہیں ہے مگر ان میں رہنے والے کمزور طبقات بہرحال پاکستانی شہری ہیں اور انھیں بحیرہ عرب میں تو نہیں پھینکا جا سکتا۔ لہذا ان کی بے دخلی سے پہلے بنیادی بندوبست بھی کیا جائے تاکہ ایک مسئلہ حل کرتے کرتے ایک اور انسانی بحران پیدا نہ ہو جائے۔
// بلدیاتی اداروں کے مفلوج ہونے کا ایک سبب پچھلے تین عشروں کے دوران بے تحاشا سیاسی و سفارشی تقرریاں بھی ہیں۔ خزانے پر بوجھ ایسے لوگوں کا بیشتر وقت اپنی نااہلی چھپانے اور نوکری بچانے میں گذر جاتا ہے۔ لہذا عدلیہ، اچھی شہرت والے سابق بیوروکریٹس اور سول سوسائٹی کے معزز ارکان پر مشتمل ایک نظرِ ثانی کمیشن بنایا جائے جو پچھلے تیس برس کی تمام تقرریوں کو میرٹ کی بنیاد پر پرکھ کے نوکری سے نکالنے یا رکھنے کا آزادانہ و شفاف فیصلہ دے سکے اور ان فیصلوں کو تمام فریق بلا مصلحت و ناراضی برداشت کریں۔ یہ وہ جلاب ہے جو بلدیاتی مریض کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ازبس ضروری ہے۔
// صرف آبی گذرگاہوں پر تجاوزات کے خاتمے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ان گذرگاہوں کو نکاسی کے جدید نظام میں تبدیل اور منسلک کرنا ہوگا اور یہ کام کم از کم اگلے پچاس برس کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرنا ہوگا تاکہ ہر سال کی چھیچھا لیدر سے نجات مل سکے۔
//ان سب مسائل کا سرچشمہ وہ سیکڑوں ٹن شہری کوڑا کرکٹ ہے جو روزانہ پیدا ہوتا ہے اور اسے پوری طرح ٹھکانے لگانے کا کوئی تسلی بخش انتظام نہیں۔ یہی کوڑا نہ صرف سڑکوں اور گلیوں کو آلودہ کرتا ہے بلکہ آبی گذرگاہوں میں بھی جمع ہوتا جاتا ہے۔ اس روگ سے نجات کے لیے ٹکڑوں میں کام کرنے کے بجائے شہروار و شہر گیر منصوبہ بندی، وسائل و آلات کی فراہمی و یکجائی اور نگرانی کے کڑے نظام کی تشکیل لازمی ہے۔ ورنہ آپ باقی سب کام کر لیں اور اس کام کو ڈھیلا چھوڑ دیں تو باقی کی منصوبہ بندی دھری کی دھری رھ جائے گی۔
بڑے شہروں کو فوری طور پر ایک جامع، جدید، تیز رفتار کثیر القسم پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی ضرورت ہے۔ یہ کام کسی ایک سطح کی حکومت کے بس کا روگ نہیں بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کے زور لگانا ہوگا۔ ایک آسان راہ یہ بھی ہے کہ بڑے شہروں کا اربن ٹرانسپورٹ سسٹم سی پیک میں ڈال دیا جائے۔

// آج جو ہم اس حالت تک پہنچے ہیں، اس کی آدھی ذمے داری ایک بدعنوان اور نااہل بلڈنگ کنٹرول ڈھانچے اور تعمیراتی قوانین کو موم کی ناک بنانے کے جرم پر عائد ہوتی ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دائرہ کار، قوانین پر عمل درآمد کی رفتار، قوانین میں پوشیدہ سقم اور اوپر سے نیچے تک ہونے والی بھرتیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نئے اور جانفشاں ڈھانچے کی غیر جانبدار بااختیار نگرانی کے لیے ایک رضاکار کمیشن کی ضرورت ہے۔ ورنہ کرپشن اور اندھا دھند تعمیراتی منظوری کا طوق اسی طرح شہروں کے گلے پڑا رہے گا۔

ان تمام اصلاحات کو ٹھوس بنیادوں پر شروع کرنے، جاری رکھنے اور ان کا رخ کسی بھی دور میں تبدیل نہ کرنے کی ٹھوس قانونی ضمانت کے لیے ایک خطیر بجٹ درکار ہے اور اس کے لیے وفاقی و صوبائی بجٹ دستاویز میں ایک مستقل مد کا خانہ بنانا پڑے گا جیسا کہ دفاع، صحت اور تعلیم وغیرہ کے لیے بنایا جاتا ہے۔ تاکہ بلدیات اس خوف سے آزاد رہیں کہ کل کی روٹی کہاں سے آئے گی۔

اگر ان میں سے نصف بھی ہوجائے تو سمجھ لیجے گا کہ ہمارے فیصلہ ساز پاکستانی شہروں کا مستقبل بچانے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں۔ بصورتِ دیگر ان فیصلہ سازوں کے ہر قلابے کو ایک پیشہ ور اداکار کی شاندار پرفارمنس سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial