اپوزیشن کا عصر کے وقت افطار – اوریا مقبول جان

بلوچستان کے براہوی قبائل میں سے ساتکزئی قبیلہ مستونگ اور بولان میں آباد ہے۔ اس قبیلے کے ایک سردار کی سرگزشت مجھے نواب محمد اسلم رئیسانی نے سنائی جو خود بھی اسی علاقے سے نہ صرف تعلق رکھتے ہیں بلکہ وہ پورا علاقہ جسے ساراوان کہتے ہیں اس کے چیف بھی ہیں۔ بقول راوی اور ’’دروغ برگردنِ راوی‘‘، اس قبیلے کے ایک سردار کو روزہ کھلنے سے تھوڑی دیر پہلے بہت زیادہ بھوک لگتی۔ وہ تھوڑی دیر صبر کرتا رہتا، لیکن پھر جب پیمانۂ صبر لبریز ہو جاتا، تو کارندوں کو بھیجتا کہ جائو مسجد کے مولوی صاحب کو بلا کر لائو، مولوی صاحب آتے، ان پر بندوق تان لیتا اور کہتا کہ مسجد کے چبوترے پر چڑھ کر اذان دو۔ مولوی صاحب اذان دیتے، اطمینان کے ساتھ دُعا کر کے روزہ کھولتا، مولوی صاحب کا مشکور ہوتا اور انہیں جانے کی اجازت دے دیتا۔ عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی صورتِ حال بھی کچھ ایسے ہی ہے۔

پانچ سالوں میں سے تین سال سات ماہ تک اپوزیشن میں یہ تاثر غالب رہا کہ اگر وقت سے پہلے عمران خان کی حکومت کو عدمِ اعتماد یا کسی اور غیر جمہوری طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ نہ صرف عمران خان کو ایک دلدل سے نکالے گی بلکہ تحریک انصاف کے تن مُردہ میں بھی جان ڈال دے گی۔ اسی لئے وہ پارٹیاں جو تحریک عدم اعتماد کی تجویز بڑھ چڑھ کر پیش کرتی تھیں، انہیں بخوبی علم تھا کہ اس پر باقی لوگ راضی نہیں ہوں گے اور یوں انہیں سندھ میں اپنے اقتدار کو پانچ سال تک دوام دینے کا موقع مل جائے گا۔ مولانا فضل الرحمن کی بے چینی اور اضطراب تو شروع دن سے بالکل ویسا ہی تھا جیسے کسی محلے کی مسجد کی انتظامیہ کسی ایک مسلک کے امام کو ہٹا کر دوسرے مسلک کے امام کو وہاں لگا دے۔ ایسی صورتِ حال میں وہ سب سے پہلے اپنے مسلک والوں کو پکارتا ہے، انہیں اکٹھا کر کے خوف دلاتا ہے کہ دیکھو یہ حملہ صرف میری ذات پر نہیں ہوا بلکہ اب مسلک کی تمام مساجد اور مدارس خطرے میں ہیں۔ مولانا کا لانگ مارچ اور اسلام آباد کا ناکام دھرنا اسی خوف کی بنیاد پر لائے ہوئے مسلکی ہجوم کا دھرنا تھا۔ نون لیگ کی قیادت تو اس تصور سے ہی خوفزدہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد انہیں باقی ماندہ عرصے کے لئے چودھری پرویز الٰہی کی وزارتِ اعلیٰ کے تحت سیاست کرنا پڑے گی۔

وہ خوب جانتے ہیں کہ 2002ء میں نون لیگ کے 140 ارکانِ اسمبلی انہیں چھوڑ کر ق لیگ میں شامل ہوئے تھے اور لاہور جسے وہ اپنا گڑھ سمجھتے تھے، وہاں آٹھ سال تک اپنا ضلعی ناظم بھی منتخب کرانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ چوہدری خاندان پنجاب کی سیاسی بساط پر مدتوں کھیلنے کی مہارت رکھتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سب کے باوجود اس قدر اچانک یہ کیسے اور کیوں کر ہو گیا؟ سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس دفعہ اسٹیبلشمنٹ ’’نیوٹرل‘‘ ہو گئی ہے۔ لیکن کیا کسی کو یقین ہے کہ عین جب میچ جیت کے مراحل میں داخل ہو، تو اچانک کسی بھی جانب سے تیز عوامی سیاسی ہوائیں چلنا شروع ہو جائیں اور بسی بسائی بستی ہی اُجڑ جائے۔ اس لئے کہ عدم اعتماد کا یہ میچ اب ایسے ہونے جا رہا ہے جس میں عوام کا جمِ غفیر بھی اسلام آباد سٹیڈیم میں موجود ہو گا۔ ایسے میں کسی بھی قسم کا ہنگامہ میچ کو لمبی مدت کے لئے ملتوی کر سکتا ہے۔ عمران خان جسے سٹیڈیم میں ہجوم جمع کر کے کھیلنے کی پرانی پریکٹس ہے وہ اگر اس کھیل کو صرف پارلیمنٹ کے بند کمروں اور ٹیلی ویژن کیمروں تک محدود رکھ کر کھیلے گا تو یہ حزبِ اختلاف کی بہت بڑی غلط فہمی تھی اور اگر اپوزیشن نے سب کچھ جان بوجھ کر اس طرف قدم بڑھایا ہے، تو پھر اس کے پیچھے نہ صرف کوئی خوفناک مقصد موجود ہو گا، بلکہ اس کے بعد کی صورتِ حال سے فائدہ اُٹھانے والے افراد بھی ہوں گے۔ یہ کھیل شروع ہوئے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا اور عمران خان کے تین جلسوں میں آنے والے ہجوم کی جذباتیت نے عوامی فضا کے رُخ کا تعین کر دیا ہے۔

یہ جلسے اور ان کا ہجوم کسی طور پر بھی سرکاری مشینری سے اکٹھا کیا گیا ہجوم نہیں لگتا اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی ایسی شہادت موجود ہے کہ بسیں پکڑنے سے لے کر سکول کے اُستادوں کو حاضر کیا گیا ہو اور پٹواریوں کی افراد کو لانے کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہوں۔ میں اپنے سرکاری تجربے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان کے تینوں جلسے سرکاری مشینری کے جلسے نہیں تھے۔ تحریک عدم اعتماد لانے والوں کو بھی اندازہ ہو چکا ہے اور وہ صورتِ حال کی تبدیلی کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان سے کہا ہے، ’’آپ 172 ارکانِ اسمبلی اکٹھا کریں عوام نہیں‘‘۔ اگر انہیں ذرا بھی اس بات کا اندازہ ہوتا کہ عمران خان ہجوم اکٹھا نہیں کر سکتا تو وہ للکار کر کہتے، لائو ہجوم تاکہ آٹے دال کا بھائو پتہ چل جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ عوام تم سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ لیکن صرف تین جلسوں نے آنے والے دنوں کی کشیدگی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ عصر میں روزہ کھولنے کی تشبیہ ایک اور حوالے سے بھی منطبق ہوتی ہے کہ اس عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کی صورتِ حال کا بھی کوئی اندازہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اپوزیشن نے اپنے اہداف کو واضح کیا ہے۔ کوئی نہیں بتاتا کہ عمران خان کے جانے کے بعد کیا ہو گا۔ ظاہر بات ہے چاروں صوبائی اسمبلیاں اس وقت تک قائم رہیں گی جب تک ان میں بھی عدم اعتماد نہیں آتا یا وزیر اعلیٰ انہیں ختم نہیں کر دیتا۔ قومی اسمبلی میں اگر پی ٹی آئی کے اراکین عمران خان کے خلاف ووٹ دیتے ہیں تو وہ سب صرف ایک ہفتے میں نااہل ہو سکتے ہیں کیونکہ اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے پاس فیصلہ سازی کا کوئی اختیار ہی نہیں، آئین کہتا ہے “Shall give effect” یعنی وہ پارٹی لیڈر کے فیصلے کو نافذ کرے گا۔

ان نااہلیوں کے بعد قومی اسمبلی میں کوئی پارٹی لیڈر وزیر اعظم کے لئے مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے قابل نہ ہو گا اور یوں اسمبلی ختم ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی اکثریت حاصل کر گیا تو پھر کس بڑی پارٹی کا سربراہ باقی ڈیڑھ سالوں کے لئے وزیر اعظم بن کر تمام عوامی نفرت کا رُخ اپنی جانب موڑے گا جو گذشتہ ساڑھے تین سالوں کی مہنگائی اور کرونا کی وجہ سے عوام میں پیدا ہوئی ہے۔ اگر کسی چھوٹی پارٹی مثلاً ق لیگ، جی ڈی اے یا ایم کیو ایم وغیرہ کے فرد کو بھی وزیر اعظم لانے کی کوشش کی گئی تو نون لیگ، پیپلز پارٹی اور فضل الرحمن شریکِ حکومت ہو کر دفاعی سطح پر چلے جائیں گے اور عمران خان اپوزیشن میں شعلہ جوالہ ہو گا۔ یہ ہے وہ صورتِ حال ہے جس میں عمران جو بھی نعرہ بلند کریگا وہ اسے صرف اور صرف مقبولیت کی طرف ہی لے جائیگا۔ ایوب خان کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کی تحریک کا جائزہ لیں تو صرف ایک دن پہلے تک تمام اپوزیشن پارٹیاں بھٹو کو ایوب خان کا ٹوڈی اور بغل بچہ کہتی تھیں، جو کنونشن لیگ کا سیکرٹری جنرل بھی تھا اور مادرِ ملت کو ہرانے والوں میں پیش پیش تھا۔ اپوزیشن بھی اس قدر مضبوط اور تجربہ کار تھی، جس نے ایوب کے مارشل لاء کے خلاف سات سال جدوجہد کی تھی۔ کیسے کیسے قد آور لوگ اس میں شامل تھے۔ نوابزادہ نصر اللہ، خان عبدالولی خان، ممتاز دولتانہ، شیخ مجیب الرحمن، خان عبدالقیوم خان، سیدابو الاعلی مودودی، مفتی محمود، نواب بگٹی، غرض ایک گلدستہ تھا جنہوں نے مادرِ ملت کا ساتھ دیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو تو عوامی نفرت والی سائیڈ پر تھا۔ اپوزیشن مہنگائی، بیروزگاری اور جمہوریت کا رونا رو رہی تھی لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو وزارت سے نکالا گیا اس نے قوم کو صرف ایک ہی نعرے پر اکٹھا کر لیا کہ ’’ایوب خان نے تاشقند میں 1965ء کی جیتی ہوئی جنگ ہار دی ہے‘‘۔ یہ ایک نعرہ ساری مذہبی، غیر مذہبی اور سیکولر اپوزیشن کو بہا کر لے گیا اور بھٹو کے تمام آمرانہ گناہوں کو بھی پاک کر گیا۔ کیا عمران خان 1967ء والا بھٹو بن سکتا ہے یا پھر اس سے بھی زیادہ خطرناک۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial